بلوچستان: مکران اور لسبیلہ پر مشتمل نئے صوبے کا عوامی مطالبہ زور پکڑ گیا
بلوچستان: مکران اور لسبیلہ پر مشتمل نئے صوبے کا عوامی مطالبہ زور پکڑ گیا
گوادر (نیوز ڈیسک) — ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کی گونج کے ساتھ ہی بلوچستان میں بھی انتظامی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی حمایت میں آوازیں مضبوط ہونے لگی ہیں۔ نوجوانوں اور سول سوسائٹی سمیت تمام مکاتبِ فکر نے مکران اور لسبیلہ ڈویژنز پر مشتمل ایک الگ انتظامی صوبہ تشکیل دینے کے حق میں رائے عامہ استوار کرنا شروع کر دی ہے۔
گوادر اور مکران بیلٹ کے لیے نئے انتظامی سیٹ اپ کی اہمیت
گوادر کے مقامی باشندوں کا ماننا ہے کہ ایک الگ صوبائی یونٹ نہ صرف ساحلی خطے کو بااختیار بنائے گا بلکہ بندرگاہ کی اصل معاشی صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لائے گا۔ مقامی حلقوں کے مطابق موجودہ جغرافیائی پھیلاؤ کے باعث عوامی مسائل کے فوری حل میں درپیش رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے۔
عوامی رائے کے اہم نکات:
روزگار اور معاشی خودمختاری: مکران اور لسبیلہ پر مشتمل نیا صوبہ بننے سے گوادر پورٹ کی سرگرمیاں براہِ راست مقامی آبادی کو روزگار فراہم کریں گی۔
بنیادی ڈھانچے کی بحالی: چھوٹے صوبائی یونٹ کے قیام سے انفراسٹرکچر، مواصلات، اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں تیزی آئے گی۔
تعلیم اور صحت کی ترقی: تعلیمی اداروں اور معیاری ہسپتالوں کے قیام سے مقامی آبادی کا دیگر بڑے شہروں پر انحصار ختم ہوگا۔
انتظامی خود مختاری: کوئٹہ سے طویل فاصلے کی وجہ سے درپیش انتظامی تاخیر کا خاتمہ ہوگا اور سرکاری امور شفاف انداز میں نمٹائے جا سکیں گے۔
گڈ گورننس اور وفاقی توازن کی ناگزیریت
تجزیہ کاروں اور شہریوں کے مطابق پاکستان میں آبادی اور رقبے کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے نئے انتظامی صوبے اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکے ہیں۔ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے سے نہ صرف وفاق مضبوط ہوگا بلکہ پسماندہ خطوں میں محرومیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا