کراچی:معروف اداکار فہد مصطفیٰ نے پنجاب حکومت سے درخواست کی ہے کہ سینما گھروں کے اوقاتِ کار میں نرمی کی جائے تاکہ شائقین کو فلمیں دیکھنے کے لیے زیادہ وقت میسر آ سکے اور فلمی صنعت کو درپیش مشکلات میں کمی آئے۔اس سلسلے میں انہوں نے وزیرِ اطلاعات و ثقافت مریم اورنگزیب کے نام ایک کھلا خط تحریر کیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت خریداری مراکز اور ان کے اندر قائم سینما گھروں کو شام 8 بجے بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس کے باعث سینما صنعت متاثر ہو رہی ہے۔فہد مصطفیٰ نے کہا کہ بیشتر افراد دن بھر اپنی پیشہ ورانہ اور تعلیمی مصروفیات میں مشغول رہتے ہیں، اس لیے فلم بینی کے لیے شام اور رات کا وقت ہی ان کے لیے زیادہ موزوں ہوتا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ سینما گھروں کے محدود اوقات کی وجہ سے نئی ریلیز ہونے والی فلموں کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے، حالانکہ یہی ابتدائی دن کسی بھی فلم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اداکار کا کہنا تھا کہ اگر سینما گھروں کے اوقات میں معمولی توسیع کر دی جائے تو ٹکٹوں کی فروخت میں اضافہ ہوگا، روزگار کے مواقع بہتر ہوں گے اور تفریحی شعبے کو بھی تقویت ملے گی۔انہوں نے فلمی صنعت کے فروغ کے لیے پنجاب حکومت کے اقدامات، خصوصاً لاہور میں فلم سٹی کے قیام کے منصوبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سینما اوقات میں محدود پیمانے پر نرمی فلم سازوں، نمائش کنندگان اور شائقین، تینوں کے مفاد میں ہوگی۔واضح رہے کہ فہد مصطفیٰ کی نئی فلم ’’زومبیڈ‘‘ عیدالاضحیٰ کے موقع پر نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی اور ملک بھر کے سینما گھروں میں دکھائی جا رہی ہے۔
سینما گھروں کے اوقات بڑھائے جائیں، فہد مصطفیٰ کی پنجاب حکومت سے اپیل
واپس خبروں پر
Category:
ثقافت و سیاحت