امتحانی اسکینڈل پر بھارتی نوجوانوں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا
نئی دہلی: بھارت میں امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والی نوجوانوں کی تحریک شدت اختیار کر گئی ہے، جس کے بعد ملک کے اندر اور بیرونِ ملک مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
نئی دہلی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں، جہاں پولیس کی جانب سے حراستوں اور تشدد کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔
پارلیمنٹ کی جانب مارچ اور پولیس کا کریک ڈاؤن
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جسے روکنے کے لیے دہلی پولیس نے سخت اقدامات کیے۔
اہم حقائق و عالمی میڈیا رپورٹس:
• گرفتاریاں اور زخمی: بین الاقوامی جریدے دی نیو یارک ٹائمز کے مطابق، دہلی پولیس نے احتجاج میں شامل 60 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مختلف اسپتالوں میں 100 سے زائد زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔
• تشدد کا استعمال: الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پولیس نے پارلیمنٹ جانے والے راستوں پر موجود ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے مظاہرین پر شدید تشدد کیا۔
• بین الاقوامی تنقید: بلومبرگ کے مطابق، حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیموں نے مظاہرین کے خلاف پولیس کے اس طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سیاسی ردعمل اور مطالبات
احتجاجی تحریک کے رہنماؤں اور اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت اور بھارتی وزیرِ تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ پرامن مظاہرین کے ساتھ اس طرح کا سلوک جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
اسی اثنا میں، بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے پولیس اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے پرامن جمہوری احتجاج میں شامل نوجوانوں کی تذلیل قرار دیا۔
بیرونِ ملک احتجاجی مظاہرے
بھارت میں ہونے والے ان واقعات کے اثرات بیرونِ ملک مقیم بھارتی کمیونٹی پر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ برطانیہ کے شہروں لندن اور مانچسٹر میں واقع بھارتی ہائی کمیشن کے باہر بھی مظاہرین نے جمع ہو کر مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی اور اصلاحات کا مطالبہ کیا