معاشی اصلاحات کے ثمرات: عوام کے اعتماد میں نمایاں اضافہ

معاشی اصلاحات کے ثمرات: عوام کے اعتماد میں نمایاں اضافہ

Sep 7, 2026|ویب ڈیسک

معاشی اصلاحات کے ثمرات: عوام کے اعتماد میں نمایاں اضافہ

پاکستان کی معیشت میں استحکام اور بحالی کے آثار واضح ہونے لگے ہیں۔ حالیہ معاشی پالیسیوں اور اصلاحات کے بعد صارفین کا بڑھتا ہوا اطمینان اور مثبت اشاریے ملکی ترقی کی نئی امید بن کر ابھر رہے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے بھی پاکستان میں معاشی بہتری اور استحکام کے لیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کی بھرپور توثیق کر دی ہے۔


آئی پی ایس او ایس (IPSOS) سروے کے حوصلہ افزا نتائج

معروف عالمی مارکیٹ ریسرچ کمپنی 'آئی پی ایس او ایس' کے حالیہ کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس سروے نے پاکستانی عوام کی معاشی سوچ میں ایک بڑی اور مثبت تبدیلی کی نشاندہی کی ہے۔ سروے کے مطابق، ملک میں صارفین کے مجموعی اعتماد کا انڈیکس 0.4 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 33.6 کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔


سب سے نمایاں پیش رفت عوام کی سوچ میں آئی ہے۔ اگست 2024 میں صرف 11 فیصد افراد کا ماننا تھا کہ ملک درست سمت میں گامزن ہے، لیکن اب یہ شرح بڑھ کر 24 فیصد ہو چکی ہے۔ اسی طرح، معاشی حالات بہتر ہونے کی امید رکھنے والوں کی تعداد جو دو سال قبل محض 12 فیصد تھی، اب تقریباً دوگنی ہو کر 23 فیصد تک جا پہنچی ہے۔


قوتِ خرید اور سرمایہ کاری میں بہتری

عوام کے معاشی حالات اور قوتِ خرید میں بھی بتدریج بہتری آ رہی ہے، جس کی عکاسی سروے کے ان اعداد و شمار سے ہوتی ہے:


روزمرہ اخراجات: ضروری گھریلو اشیاء کی معمول کی خریداری پر عوام کا اطمینان 3 فیصد اضافے سے 10 فیصد ہو گیا ہے۔


بڑی خریداری: گھر یا گاڑی جیسی بڑی اور اہم خریداری کے لیے صارفین کے اعتماد میں 2 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اب 7 فیصد پر کھڑا ہے۔


سرمایہ کاری پر اعتماد: ملک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اعتماد 15 فیصد پر برقرار ہے، جو کہ گزشتہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر مستحکم رہا ہے۔


مجموعی طور پر، پاکستان میں روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی صورتحال کے حوالے سے 'گلوبل کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس' میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، جو ملکی معیشت کے روشن مستقبل کی نوید ہے