بھارت: مودی حکومت پر معاشی اعداد و شمار میں ہیر پھیر کا الزام، سابق عہدیداروں نے قلعی کھول دی
بھارت: مودی حکومت پر معاشی اعداد و شمار میں ہیر پھیر کا الزام، سابق عہدیداروں نے قلعی کھول دی
• جعلی معاشی ترقی: مودی سرکار کی اعداد و شمار میں مبینہ جعلسازی بے نقاب
• کیا بھارتی معیشت واقعی ترقی کر رہی ہے؟ سابق فنانس سیکرٹری اور ریزرو بینک کے گورنر نے حکومتی دعوے مسترد کر دیے
نئی دلی: بھارتی معیشت کی شاندار ترقی کے حکومتی دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بھارت کے سابق اعلیٰ معاشی عہدیداروں اور اپوزیشن کی جانب سے مودی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنی نااہلی چھپانے اور عالمی اداروں کو گمراہ کرنے کے لیے جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کر رہی ہے۔
بھارت کے سابق فنانس سیکرٹری سبھاش چندرا گرگ نے نام نہاد معاشی ترقی کے حکومتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مودی سرکار نے رواں سال کی جی ڈی پی کو متاثر کن دکھانے کے لیے گزشتہ سال کے اعداد و شمار میں دانستہ طور پر ردوبدل کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس کی جی ڈی پی کم دکھا کر اس سال کی پہلی سہ ماہی کی شرحِ نمو 10.3 فیصد ظاہر کی گئی ہے۔ سبھاش چندرا گرگ کے مطابق اگر پچھلے مالی سال کے اعداد و شمار میں یہ جعلسازی نہ کی جاتی، تو موجودہ قیمتوں پر یہ ترقی صرف 2.6 فیصد بنتی۔
دوسری جانب بھارتی ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھورام راجن نے بھی موجودہ معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر مودی حکومت کے دور میں معیشت واقعی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، تو اس کے مثبت اثرات روزگار کی فراہمی اور سرمایہ کاری میں کیوں دکھائی نہیں دے رہے۔
علاوہ ازیں، عالمی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت کی جانب سے بتائی گئی 7.8 فیصد شرحِ نمو کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض 'اعداد و شمار کا گورکھ دھندا' قرار دیا ہے۔
کانگریس کی رکن سپریا شرینتے نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی دورِ حکومت میں روزگار کے مواقع خطرناک حد تک کم ہوئے ہیں، جبکہ منفی غیر ملکی سرمایہ کاری اور بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے نے بھارتی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔