کوئٹہ — بلوچستان اسمبلی کی ویمن پارلیمانی کاکس (WPC) نے صوبے میں تیزاب گردی کے واقعات کی روک تھام اور متاثرین کے تحفظ و بحالی کے لیے قانون سازی کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ جائزہ کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
یہ اہم فیصلہ بلوچستان اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر اور ویمن پارلیمانی کاکس کی چیئرپرسن غزالہ گولا نے کی۔ قانون سازی کا پس منظر اور صوبائی اعداد و شمار
اجلاس کے دوران جسٹس (ریٹائرڈ) کیلاش ناتھ کوہلی نے تیزاب گردی کے جرائم سے متعلق پاکستان کے موجودہ قانونی ڈھانچے اور 2016 میں تیار کیے گئے صوبائی مسودہ قانون پر تفصیلی بریفنگ دی۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق:
سال 2021 سے اب تک بلوچستان میں تیزاب گردی کے 7 مقدمات درج کیے گئے۔
ان میں سے 5 مقدمات کو سال 2022 کے دوران منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔
ارکانِ کاکس کا کہنا تھا کہ تیزاب کی کھلی فروخت پر قابو پانے اور مجرموں کو سخت سزائیں دینے کے لیے ایک جامع صوبائی قانون کی فوری ضرورت ہے۔
مشترکہ جائزہ کمیٹی کے بنیادی اہداف
اجلاس میں طے پایا کہ مجوزہ بل کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو 2016 کے مسودے کا جائزہ لے کر اس میں جدید ترمیمی دفعات شامل کرے گی۔ نئے قانون میں مندرجہ ذیل امور کو ترجیح دی جائے گی:
تیزاب کی فروخت کی نگرانی: خطرناک کیمیکلز اور تیزاب کی خرید و فروخت کو سخت ضابطوں کے تحت لانا۔
متاثرین کا تحفظ اور بحالی: حملے کا شکار ہونے والے افراد کو طبی، نفسیاتی اور سماجی مدد فراہم کرنا۔
معاوضہ اور قانونی امداد: متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری معاوضے اور سرکاری سطح پر قانونی معاونت کو یقینی بنانا۔
تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کی سفارش
چیئرپرسن غزالہ گولا نے زور دیا کہ اس قانون کو جامع بنانے کے لیے صنعت، صحت، پراسیکیوشن، محکمہ ترقیِ خواتین، پولیس اور سینئر وکلاء کو اگلے مشاورتی عمل کا حصہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے اسمبلی کی ہوم کمیٹی کے ساتھ مل کر سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
اجلاس میں کاکس کی ارکان راحیلہ حمید خان درانی، شاہدہ رؤف، فرح عظیم شاہ، کلثوم نیاز، سلمیٰ کاکڑ، شہناز عمرانی سمیت اقوام متحدہ کی خواتین (UN Women) کے نمائندوں اور اسمبلی کے اسپیشل سیکرٹری عبدالرحمن نے شرکت کی۔
ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولا نے اپنے اختتامی کلمات میں عزم دہرایا کہ "ویمن پارلیمانی کاکس بلوچستان میں مظلوم طبقات کے حقوق کے تحفظ اور ہر قسم کے تشدد کے خاتمے کے لیے مضبوط قانونی ضمانتیں فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے