کوئٹہ — وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی وسائل کو عوامی فلاح و بہبود، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پسماندہ علاقوں کی پائیدار ترقی کے لیے وقف کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں صوبائی حکومت کی اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کے ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، جس کا مقصد مالی سال 27-2026 کے آئندہ صوبائی بجٹ اور ترقیاتی ترجیحات پر تفصیلی مشاورت کرنا تھا۔
عوامی مفاد اور زمینی حقائق کے مطابق بجٹ پر اتحادیوں کا اتفاقِ رائے
مشاورتی سیشن کے دوران اتحادی رہنماؤں نے صوبے کی معاشی ترقی کے لیے مختلف تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ نیا بجٹ عوامی ضروریات، زمینی حقائق اور پسماندہ علاقوں کی بحالی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ آئندہ بجٹ میں مندرجہ ذیل پانچ بنیادی شعبوں کو خصوصی فنڈز فراہم کیے جائیں گے:
تعلیم و صحت: اسکولوں، کالجوں اور ہسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے کی جدید خطوط پر استواری۔
پینے کا صاف پانی: صوبے کے دور دراز علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیموں کا احیاء۔
مواصلات اور انفراسٹرکچر: شاہراہوں کا جال بچھا کر دیہی علاقوں کو تجارتی مراکز سے جوڑنا۔
مسلم لیگ (ن) کے وفد کا وزیر اعلیٰ کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار
بجٹ مشاورت کے سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ کی قیادت میں ایک اہم وفد نے بھی وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی۔
وفد نے صوبے کے سیاسی امور اور بجٹ ترجیحات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کی عوامی پالیسیوں اور کارکردگی کو سراہا اور ان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
قبائلی عمائدین سے مشاورت اور پسماندہ علاقوں کے مسائل کا حل
ایک اور ملاقات میں ممتاز قبائلی رہنما سردار کمال خان بنگلزئی کی سربراہی میں ایک وفد نے وزیر اعلیٰ کو پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی قلت اور مقامی چیلنجز سے آگاہ کیا۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے وفد کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ "دور دراز علاقوں کے مسائل حل کرنا اور تمام اضلاع کو یکساں ترقیاتی مواقع فراہم کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ عوام کے نمائندوں، سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین سے مسلسل مشاورت ہماری انتظامی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔"
وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو پسماندہ علاقوں کے عوامی مسائل پر فوری اور عملی اقدامات اٹھانے کی سخت ہدایت جاری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ صوبائی بجٹ بلوچستان میں گڈ گورننس (بہتر طرزِ حکمرانی) اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔