اسلام آباد: معروضی عالمی نشریاتی ادارے 'ٹی آر ٹی ورلڈ' (TRT World) نے اپنی ایک خصوصی تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان میں کالعدم بی ایل اے کی دہشت گردانہ سرگرمیاں اب محض پاکستان کا اندرونی معاملہ نہیں رہیں، بلکہ یہ بین الاقوامی تجارت، علاقائی رابطوں اور عالمی سپلائی چین کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بی ایل اے کی جانب سے بلوچستان کی شاہراہوں اور تجارتی راہداریوں کو نشانہ بنائے جانے کے باعث یہ سیکیورٹی زون انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جس کے اثرات عالمی منڈیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔
H2: معاشی گلا گھونٹنے اور انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی حکمت عملی
بین الاقوامی ماہرینِ سیکیورٹی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بی ایل اے کا اصل تزویراتی (Strategic) ہدف پاکستان کا معاشی گلا گھونٹنا اور علاقائی ممالک کے مابین تجارتی روابط کو سبوتاژ کرنا ہے۔
H3: مواصلاتی نیٹ ورک پر منظم حملے:
سرمایہ کاری کے ماحول کو نقصان: سڑکوں، ریلوے لائنوں اور ترقیاتی منصوبوں پر مسلسل حملوں نے صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
ریلوے نیٹ ورک کی معطلی: جعفر ایکسپریس سمیت مال بردار اور مسافر ٹرینوں پر متعدد حملوں کے نتیجے میں بلوچستان کا ملک کے دیگر حصوں سے ریل رابطہ بار بار معطل ہوا ہے۔
عوام کے روزگار پر حملہ: ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق ٹرینوں، شاہراہوں اور مال بردار گاڑیوں پر حملے بلوچ عوام کی ترجمانی نہیں، بلکہ خود ان کے روزگار، ترقی اور معاشی بقا کے خلاف ایک کھلی جنگ ہے۔
H2: گوادر بندرگاہ اور عالمی سپلائی چین پر اثرات
رپورٹ میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ گوادر بندرگاہ اور بلوچستان کا جغرافیہ عالمی تجارت کے لیے ایک اہم ترین 'زمینی چوک پوائنٹ' (Choke Point) ہے۔ یہاں پیدا ہونے والے عدم استحکام کی قیمت صرف پاکستان کو نہیں، بلکہ عالمی سپلائی چین اور بین الاقوامی صارفین کو بھی چکانی پڑ رہی ہے۔
گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026: رپورٹ میں شامل کردہ تازہ ترین عالمی اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ برس پاکستان میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے کل واقعات میں سے تین چوتھائی (75 فیصد) واقعات صرف صوبہ بلوچستان میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
سی پیک (CPEC)، بڑے توانائی منصوبوں اور تجارتی راستوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے کمپنیوں کے سیکیورٹی اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس سے منصوبوں کی لاگت بڑھ رہی ہے۔
H2: القاعدہ اور داعش سے مشابہت اور عالمی ردِعمل
ٹی آر ٹی ورلڈ نے واضح کیا کہ بی ایل اے کا موجودہ طرزِ عمل اور جنگی حکمت عملی اب القاعدہ اور داعش جیسے عالمی دہشت گرد گروہوں سے مشابہ ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس تنظیم کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔
امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا پہلے ہی بی ایل اے کو باقاعدہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں، اور اب دیگر عالمی طاقتوں پر بھی اسے بلیک لسٹ کرنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے آخر میں ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں امن و استحکام کا قیام اب صرف پاکستان کا مقصد نہیں، بلکہ چین، خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور یورپی منڈیوں کے وسیع تر معاشی مفاد میں ہے