اسلام آباد: 'اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت' پر دستخط کے بعد عالمی سفارت کاری میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکا اور ایران کے مابین براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹزرلینڈ کے شہر برجنسٹاک (Bürgenstock) میں شروع ہو رہا ہے۔
سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق، معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی مندوبین آج میز پر سر جوڑیں گے۔
پاکستان اور قطر بطور ثالث سرگرمِ عمل
برجنسٹاک میں ہونے والی اس اہم بیٹھک میں مانیٹرنگ اور سفارتی معاونت کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک، پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی خصوصی طور پر موجود ہوں گے۔
اگرچہ سوئس حکومت نے تاحال مذاکرات کی حساسیت کے پیشِ نظر مندوبین کے نام اور ملاقات کی تفصیلی نوعیت کو خفیہ رکھا ہے، تاہم تازہ ترین اعلامیے سے دیگر ممالک کی شرکت سے متعلق شق کو حذف کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف، صدر ٹرمپ اور صدر پزشکیان کی دستخط شدہ یادداشت
"گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والا تاریخی اعلامیہ خطے اور عالمی امن کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔"
واضح رہے کہ اس بریک تھرو کی بنیاد گزشتہ روز اس وقت رکھی گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخطوں سے توثیق شدہ 'اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت' پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بطور ثالث دستخط کیے۔ اس معاہدے کو عالمی منظرنامے پر پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے