وزیراعلیٰ بلوچستان کی قانونی افسران کی تعیناتیاں ہائیکورٹ میں چیلنج
کوئٹہ — بلوچستان ہائیکورٹ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی حالیہ تعیناتیوں کے خلاف دائر آئینی درخواست پر صوبائی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس کامران ملاخیل نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد یہ احکامات جاری کیے۔
قانونی تقاضوں اور مقررہ طریقۂ کار کی مبینہ خلاف ورزی
عدالت عالیہ میں دائر درخواست میں صوبائی حکومت کے حالیہ نوٹیفیکیشنز پر سنگین نوعیت کے قانونی سوالات اٹھائے گئے ہیں:
آئینی درخواست کا دائرہ: یہ درخواست نامور قانون دان ایڈووکیٹ صادق خان کاکڑ کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عجلت میں کی گئی یہ تقرریاں قانون سے ہٹ کر کی گئیں۔
قانونی کونسل کی جرح: ہائیکورٹ میں ابتدائی سماعت کے دوران درخواست گزار کی طرف سے ایڈووکیٹ نور احمد کاکڑ بطور کونسل عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور متعلقہ شواہد پیش کیے۔
صوبائی حکومت سے تحریری جواب طلب
چیف جسٹس کامران ملاخیل نے کیس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فریقین کو باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
اہم ترین نکتہ: درخواست گزار کا بنیادی مؤقف ہے کہ ایڈیشنل اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے عہدوں پر بھرتیاں مروجہ سیکیورٹی، اہلیت اور میرٹ کے ضوابط کو بائی پاس کر کے کی گئیں۔ اب صوبائی حکومت کو ان تقرریوں کی آئینی حیثیت ثابت کرنے کے لیے عدالت میں اپنا تحریری جواب جمع کرانا ہوگا۔