H1: افغان طالبان کے زیرِ تسلط افغانستان ناکام ریاست بن چکا ہے: بھارتی تھنک ٹینک
نئی دہلی / اسلام آباد: افغان طالبان کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے بعد افغانستان شدید ترین انسانی بحران اور معاشی بدحالی کا شکار ہو کر ایک ناکام ریاست میں تبدیل ہو چکا ہے۔ معروف بھارتی تھنک ٹینک ابزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (ORF) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں افغانستان کی موجودہ صورتحال اور خطے پر اس کے سیکیورٹی اثرات کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی نااہلی کے باعث جہاں عام افغان شہری بدحالی کا شکار ہیں، وہیں عالمی سطح پر افغانستان پر سفارتی اور مالیاتی گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی اقدامات اور سفارتی تنہائی
تھنک ٹینک نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے طالبان انتظامیہ پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا احاطہ کیا ہے:
امریکہ کی جانب سے درجہ بندی: مارچ 2026 میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان کو غیر قانونی حراستوں کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیا تھا۔
آسٹریلیا کی سخت پابندیاں: دسمبر 2025 میں آسٹریلیا نے طالبان کے 3 وزرا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر سخت سفری اور مالی پابندیاں عائد کی تھیں۔
انسانی حقوق کی پامالی اور دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانے
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں جمہوری عمل، شفافیت اور بنیادی انسانی حقوق کا خاتمہ ہو چکا ہے، جبکہ دہشت گرد تنظیمی ڈھانچے مضبوط ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے بنیادی نکات
خواتین اور اقلیتوں پر مظالم: طالبان انتظامیہ نے خواتین کی تعلیم پر مکمل قدغن لگا رکھی ہے، جبکہ اقلیتوں اور سابقہ حکومت کے حمایتیوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
غیر شفاف مالیاتی نظام: سالانہ بجٹ اور اخراجات کا نظام بالکل غیر شفاف ہے، اور عوامی فلاح کے فنڈز کو اسلحے کی خریداری کے لیے منتقل کیا جا رہا ہے۔
علاقائی سیکیورٹی کو خطرات: افغانستان میں القائدہ اور فتنة الخوارج (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کی موجودگی پورے خطے کے امن و امان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
"طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینا، اور انسانی حقوق بالخصوص خواتین، اقلیتوں اور میڈیا پر شدید قدغنیں لگانا ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک مسئلہ ہے۔" — ینی فورزہائمر، سابق امریکی سفارت کار و ماہرِ امورِ افغانستان