دہشت گردوں کا نام نہ لینا خوف کی علامت ہے: میر ضیاء اللہ لانگو

دہشت گردوں کا نام نہ لینا خوف کی علامت ہے: میر ضیاء اللہ لانگو

Aug 24, 2026|ویب ڈیسک

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی پر حقائق چھپانے اور حکومت پر ملبہ ڈالنے کا الزام؛ وزیر داخلہ کا سخت ردعمل

کوئٹہ: بلوچستان کے وزیر داخلہ و قبائلی امور میر ضیاء اللہ لانگو نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کا واضح نام نہ لینا ان کے خوف اور دوغلے پن کی نشانی ہے। 

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سرانان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم پہلے ہی قبول کر چکی ہے، اس کے باوجود سیاسی رہنما حقائق کا اعتراف کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

'جان کا خوف اور دوغلا پن'

میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اپنی جان کے خوف کی وجہ سے دہشت گردوں اور شدت پسند تنظیموں کی واضح نشاندہی کرنے سے کتراتے ہیں اور سارا ملبہ حکومت کے کھاتے میں ڈال کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسا طرز عمل دوغلا پن ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ نام نہاد قیادت اندرونی خوف سے آزاد نہیں ہو سکی۔

پشتون عوام کی قیادت اور حقائق

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ایک حقیقی لیڈر کو مشکل حالات میں میدان میں نکل کر عوام کی درست سمت میں رہنمائی کرنی چاہیے اور سچائی کو سامنے لانا چاہیے۔ پشتونوں کو اصل زمینی حقائق اور خطرات سے بے خبر رکھ کر غلط بیانی کی راہ پر ڈالنا پشتون دوستی نہیں بلکہ کھلی دشمنی کے مترادف ہے۔

اہم نکات:

• دہشت گردی پر دوغلا پن: کالعدم تنظیموں کی جانب سے سرانان حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے باوجود نام لینے سے گریز قابل مذمت ہے۔

• حقائق سے چشم پوشی: سیاسی فائدے کے لیے دہشت گردی کا تمام تر ملبہ حکومت پر ڈالنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔

• پشتون عوام کا تحفظ: وزیر داخلہ کا مؤقف ہے کہ پشتونوں کو سچ بتانے کے بجائے گمراہ کرنا ان کے مفادات کے خلاف ہے