صنعتی زونز روایتی رئیل اسٹیٹ ماڈل سے پیداواری ماڈل پر منتقل؛ ملک بھر میں 32 ٹیکنالوجی زونز فعال، 27 ہزار سے زائد آئی ٹی پروفیشنلز سرگرمِ عمل
اسلام آباد — ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری، برآمدات اور صنعتی پیداوار کو بڑھانے کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے گزشتہ 3 برسوں کے دوران ملک کے مینوفیکچرنگ اور ٹیک سیکٹرز میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔
جدید سروے ڈیٹا اور جامع منصوبہ بندی کی بنیاد پر ایک نیا قومی فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے، جس کا مقصد صنعتی زونز کو رئیل اسٹیٹ کے روایتی کاروبار سے نکال کر خالصتاً صنعتی پیداوار اور ملکی برآمدات کا مرکز بنانا ہے۔
ون ونڈو آپریشن اور اہم انڈسٹریل پارکس پر خصوصی توجہ
سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے ایس آئی ایف سی نے ون ونڈو کی سہولت، فاسٹ ٹریک منظوریوں اور پالیسی ہم آہنگی کو یقینی بنایا ہے، جس سے بیرونی و اندرونی سرمایہ کاری کا عمل انتہائی آسان ہو گیا ہے۔ اس نئی مہم کے تحت ملک کے 5 بڑے صنعتی زونز کی ترقی پر ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے:
رشکئی اقتصادی زون
دھابے جی اقتصادی زون
قائد اعظم بزنس پارک
علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی
کراچی انڈسٹریل پارک
ڈیجیٹل معیشت کا فروغ: 32 اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کا قیام
صنعتی شعبے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل معیشت اور تکنیکی جدت کے لیے بھی سازگار ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
ایس آئی ایف سی کے تعاون سے ملک بھر میں 32 اسپیشل ٹیکنالوجی زونز (STZs) قائم کیے جا چکے ہیں۔ ان ٹیک زونز میں اس وقت 200 سے زائد ملکی و بین الاقوامی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جبکہ 27 ہزار سے زائد پاکستانی آئی ٹی پروفیشنلز ڈیجیٹل معیشت کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ان دور رس اقدامات کی بدولت پاکستان میں صنعت کاری، روزگار کے مواقع اور برآمدات کو ایک نئی اور تیز رفتار سمت مل گئی ہے۔