*کوئٹہ:* بلوچستان حکومت نے سندھ حکومت کو ایک باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے *ارسا (IRSA) معاہدے* کے تحت صوبے کے لیے مختص پانی کی فوری فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
خط میں بلوچستان حکومت نے *پٹ فیڈر کینال* اور *کھیرتھر کینال* میں پانی کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں نہریں صوبے کے مختلف علاقوں میں زرعی اراضی کی آبپاشی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
پٹ فیڈر کینال میں پانی کی فراہمی 58 فیصد کم
محکمہ آبپاشی کے حکام کے مطابق سندھ کی جانب سے ارسا معاہدے کے تحت بلوچستان کے حصے کا پانی مکمل طور پر فراہم نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث کسانوں اور مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سپرنٹنڈنٹ انجینئر محکمہ آبپاشی نصیرآباد سرکل *انجینئر مدثر ظفر کھوسہ* نے سندھ حکومت پر زور دیا کہ وہ مسئلے کو فوری طور پر حل کرتے ہوئے بلوچستان کے حصے کا پانی بحال کرے۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ *پٹ فیڈر کینال میں پانی کا اخراج 6,500 کیوسک سے کم ہو کر 2,725 کیوسک رہ گیا ہے، جبکہ نہر میں پانی کی مجموعی دستیابی میں **58 فیصد کمی* ریکارڈ کی گئی ہے۔
دھان کی فصل کو شدید خطرات لاحق
انجینئر مدثر ظفر کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ بلوچستان کے لیے مختص پانی کو اپنے نہری نظام میں منتقل کر رہا ہے، جس سے صوبے میں زرعی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کی مسلسل قلت کے باعث خصوصاً *دھان (چاول) کی فصل* کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور کاشتکاروں کو فصل کی کاشت کے دوران سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کی تجویز
بلوچستان حکومت نے پانی کی منصفانہ تقسیم اور ارسا معاہدے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے *تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ* کی تجویز بھی پیش کی ہے تاکہ دونوں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بین الصوبائی پانی کے تنازعات کے حل اور زرعی شعبے کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔