اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا مجموعی حجم رکھنے والا وفاقی بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بجٹ میں جہاں ملکی دفاع اور ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے، وہیں مہنگائی کے شکار عوام اور خاص طور پر تنخواہ دار طبقے کے لیے اہم ریلیف کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
معیشت کے اہم اعشاریے اور اہداف
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں واضح کیا کہ حالیہ سیلاب اور عالمی سیاسی و معاشی تنازعات کے باوجود ملکی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے:
معیشت کا کل حجم: 452 ارب ڈالر کا نیا سنگ میل عبور کر گیا۔
فی کس آمدنی: 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی۔
لارج اسکیل مینوفیکچرنگ: 6.1 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی۔
زرمبادلہ کے ذخائر: 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جو 3 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
ترسیلات زر: رواں مالی سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی امید ہے۔
آئندہ مالی سال کے لیے حکومت نے اقتصادی ترقی کا ہدف 4 فیصد اور اوسط افراط زر (مہنگائی) کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا ہے۔ ایف بی آر (FBR) کے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15,264 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
تنخواہ دار طبقے اور سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف
بجٹ میں سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ملک میں کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، تنخواہ دار طبقے کے انکم ٹیکس سلیبز کو درج ذیل طریقے سے ریلیف فراہم کرنے کے لیے تبدیل کیا گیا ہے
تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج مکمل ختم کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، 15 سے 50 کروڑ روپے تک کی آمدنی پر عائد کارپوریٹ سپر ٹیکس بھی ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
انفراسٹرکچر، توانائی اور ترقیاتی بجٹ (PSDP)
قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں وفاق کا حصہ 1 ہزار ارب روپے جبکہ صوبوں کا ترقیاتی پروگرام 2 ہزار 224 ارب روپے کا ہے۔
مواصلات اور آبی وسائل کے بڑے منصوبے
این 25 شاہراہ (کراچی تا چمن): دو رویہ کرنے کے لیے 100 ارب روپے مختص۔
سکھر حیدر آباد موٹروے: منصوبہ بندی کے لیے 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری۔
ایم ایل ون (ML-1) ریلوے: کراچی تا روہڑی سیکشن کے لیے 25 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔
آبی منصوبے: داسو، مہمند اور دیامر بھاشا ڈیم سمیت 43 آبی منصوبوں کے لیے 103 ارب 10 کروڑ روپے کی بھاری رقم مختص۔
جائیداد، ریٹیلرز اور سوشل میڈیا پر نئے ٹیکس قوانین
رئیل اسٹیٹ میں ریلیف: فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس: 20 کروڑ روپے سے کم سالانہ فروخت والے دکانداروں کے لیے محض 1 فیصد فکسڈ سیلز ٹیکس متعارف کرایا گیا ہے، جس کے بعد وہ روٹین آڈٹ اور POS مشینوں کی شرط سے مستثنیٰ ہوں گے۔
سوشل میڈیا پر ٹیکس: یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلونسرز کی آمدنی پر اکاؤنٹ میں رقم وصولی کے وقت 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی لاگو ہوگی۔
خواتین کی صحت: سینیٹری پیڈز اور مانع حمل اشیاء پر عائد تمام ٹیکسز کو مکمل طور پر ختم کرنے کی منظوری دی گئی ہے