طالبان رجیم کی ناقص پالیسیاں: افغان معیشت تباہی کا شکار
کابل – طالبان رجیم کی ناقص اقتصادی پالیسیوں اور غیر دانشمندانہ حکمتِ عملی کے باعث افغانستان کا معاشی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ ابتر ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک 'ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی' کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، قابض طالبان رجیم کی 5 سالہ ترقیاتی حکمتِ عملی بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور معاشی کامیابیوں کے بلند و بانگ دعوے زمینی حقائق سے کوسوں دور ہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور سرمایہ کاری کے شدید فقدان نے عام افغان شہریوں کی مشکلات کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔
اشیائے خوردونوش عام عوام کی پہنچ سے دور، مہنگائی میں 8 فیصد اضافہ
ریڈیو فری یورپ کی رپورٹ کے مطابق، افغان مارکیٹ میں بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں اب عام آدمی کی بساط سے باہر ہو چکی ہیں، جس نے ملک میں غذائی بحران کو جنم دیا ہے:
مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ اضافہ: مئی کے مہینے میں سالانہ مہنگائی کی شرح ہولناک حد تک بڑھ کر 8 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ پچھلے سال اسی مہینے میں یہ شرح محض 0.5 فیصد تھی۔
غذائی اشیاء کی قیمتیں بلند: افغانستان میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں 8.2 فیصد تک کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے غریب خاندانوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔
خواتین کے روزگار پر پابندی سے معاشی بحران مزید سنگین
عالمی ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے آدھی آبادی کو معاشی عمل سے باہر کرنے کے فیصلے نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔
"افغان رجیم کی انتہاپسند پالیسیوں اور خواتین پر کام کی پابندیوں نے ملک کی نصف پیداواری افرادی قوت کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ خواتین کے روزگار اور کاروبار پر پابندی نے افغان خاندانوں کو شدید مالی مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔" — عالمی ماہرینِ معیشت
بے روزگاری کی بلند سطح اور سفارتی تنہائی کے اثرات
بے روزگاری کا بحران: طالبان انتظامیہ کی نااہلی کے باعث ملک میں بے روزگاری کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، جو سال 2025 کے اختتام پر 13.35 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
سفارتی اور معاشی تنہائی: عالمی ماہرین کے مطابق، انتشاری عناصر کی پشت پناہی کے باعث افغانستان بین الاقوامی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار ہے، جس کا براہِ راست خمیازہ وہاں کی معیشت اور عام عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
سرمایہ کاری کا فقدان: بین الاقوامی بینکنگ چینلز کی بندش اور غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہونے کی وجہ سے افغان معیشت کا پہیہ مکمل طور پر جام ہو چکا ہے