پاکستان کا ہائی رسک میری ٹائم لسٹ سے اخراج: بحری تجارت اور معیشت کے لیے بڑی کامیابی
لندن کی باوقار جوائنٹ وار کمیٹی (JWC) نے پاکستان اور اس کے علاقائی سمندری پانیوں کو بین الاقوامی ہائی رسک میری ٹائم ایریاز کی فہرست سے باضابطہ طور پر خارج کر دیا ہے، جس سے ملکی بحری تجارت کو بڑا مالیاتی ریلیف ملے گا۔
لائیڈز آف لندن سے کامیاب سفارتی و تکنیکی مذاکرات
مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی سیکیورٹی کشیدگی کے تناظر میں جوائنٹ وار کمیٹی نے 3 مارچ 2026 کو بحرین، کویت، قطر، عمان اور جبوتی سمیت پاکستان کی ساحلی پٹی کو ہائی رسک لسٹ میں شامل کر دیا تھا۔ اس شمولیت سے پاکستانی بندرگاہوں کا رخ کرنے والے تجارتی جہازوں پر خطیر وار رسک انشورنس لاگو ہو گئی تھی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی وزیر برائے بحری امور کی سربراہی میں ایک بااختیار کمیٹی نے لائیڈز کے ذمہ داران کے سامنے جامع سیکیورٹی ڈیٹا اور تکنیکی شواہد پیش کر کے یہ غیر معمولی ریلیف حاصل کیا۔
اہم پیش رفت اور معاشی فوائد:
اضافی انشورنس کا خاتمہ: پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہونے والے کارگو اور تجارتی جہازوں سے بھاری وار رسک پریمیم فوری طور پر ختم۔
درآمدات و برآمدات کے کرایوں میں کمی: شپنگ کمپنیوں کے آپریشنل اخراجات گھٹنے سے ملکی تجارت کی لاگت میں واضح کمی متوقع۔
ٹرانزٹ حب کے طور پر فروغ: کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر علاقائی ٹرانزشپمنٹ سرگرمیوں کو نئی تقویت۔
محفوظ علاقائی پانی اور عالمی سمندری راہداریوں کا اعتماد بحال
جوائنٹ وار کمیٹی کی جانب سے پاکستان کا اسٹیٹس بحال کرنا ملک کی موثر میری ٹائم سیکیورٹی فورسز اور محفوظ تجارتی پانیوں کا بین الاقوامی اعتراف ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے پاکستان کا پورٹ انفراسٹرکچر غیر ملکی شپنگ لائنز کے لیے انتہائی پرکشش بن جائے گا، جس سے ملکی لاجسٹکس سیکٹر اور زرمبادلہ کے ذخائر کو طویل مدتی استحکام حاصل ہوگا