جنوبی انگلینڈ میں 35.7 ڈگری گرمی، اسپین اور فرانس شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں
لندن — برطانیہ، اٹلی، اسپین اور فرانس سمیت براعظم یورپ کے بیشتر ممالک اس وقت شدید اور ریکارڈ توڑ ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں، جس نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس شدید ترین لہر کے باعث مختلف یورپی ممالک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق، جنوبی انگلینڈ میں شدید ترین گرمی کے باعث درجہ حرارت 35.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس سیزن کا ایک غیر معمولی ریکارڈ ہے۔
شدید گرمی اور حبس کے پیش نظر برطانوی حکومت اور انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات اٹھائے ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، طلبہ اور اساتذہ کو ہیٹ اسٹروک اور دیگر طبی مسائل سے محفوظ رکھنے کے لیے ملک بھر میں 1,000 سے زائد اسکولوں کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
"موجودہ ہیٹ ویو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر چکی ہے،" برطانوی محکمہ موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا۔ "اسکولوں کی بندش بچوں کو شدید لو اور تپش سے بچانے کے لیے ناگزیر تھی۔"
یورپ بھر میں الرٹ جاری: ہنگامی نافذ العمل اقدامات
برطانیہ کے علاوہ یورپی ممالک اٹلی، اسپین اور فرانس میں بھی سورج آگ برسا رہا ہے، جہاں کئی شہروں میں درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے اہم ترین نکات:
برطانیہ میں ریکارڈ درجہ حرارت: جنوبی انگلینڈ میں گرمی کا پارہ 35.7 ڈگری تک جا پہنچا۔
تعلیمی ادارے بند: گرمی کی شدت کے باعث برطانیہ میں ایک ہزار سے زائد اسکول بند کرنے کا فیصلہ۔
پین-یورپی بحران: اٹلی، اسپین، اور فرانس میں بھی ہیٹ ویو کے سبب ریڈ الرٹ نافذ۔