کوئٹہ میں ہندو سکھ مشترکہ عبادات میں امن کی اجتماعی دعا

کوئٹہ میں ہندو سکھ مشترکہ عبادات میں امن کی اجتماعی دعا

Jul 4, 2026|ویب ڈیسک

سکھ اور ہندو برادری کا بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے مشترکہ اقدام، حکومتِ بلوچستان کا بھرپور تعاون

​کوئٹہ (4 جولائی 2026) — بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں تاریخ میں پہلی بار سکھ اور ہندو برادری نے مل کر روایتی مذہبی جلوس ’نگر کیرتن‘ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد شہر میں امن، محبت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنا تھا۔

​یہ تاریخی پروگرام صوبائی وزیر برائے بین المذاہب ہم آہنگی سنجے پنجوانی، رکن صوبائی اسمبلی (MPA) روی پہوجا اور کوئٹہ ہندو پنچایت کی مشترکہ قیادت اور خصوصی تعاون سے ممکن ہوا، جس میں دونوں مذاہب کے ماننے والوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

نگر کیرتن کا مقصد اور اجتماعی دعا

​مذہبی اصطلاح میں ’نگر کیرتن‘ سے مراد شہر میں نگر نگر جا کر عبادت کرنا، شبد گانا اور امن و امان کا پیغام دینا ہے۔

​اس منفرد تقریب کے اہم خدوخال درج ذیل رہے:

​مشترکہ بھائی چارہ: کوئٹہ کی تاریخ میں پہلی بار دونوں بڑی اقلیتی برادریوں نے کسی بڑے مذہبی جلوس کے لیے یکجا ہو کر انتظام سنبھالا۔

​امن و خوشحالی کی دعا: جلوس کے دوران شرکاء نے صوبے اور ملک میں بھائی چارے، استحکام اور معاشی ترقی کے لیے خصوصی اجتماعی دعائیں مانگیں۔

​حکومتی سرپرستی: صوبائی حکومت کے نمائندوں نے خود جلوس کی قیادت کر کے اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے عزم کو دہرایا۔

​ سیکیورٹی اور ٹریفک کے فول پروف انتظامات

​نگر کیرتن کے پرامن، منظم اور باوقار انعقاد کے لیے حکومتِ بلوچستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غیر معمولی اقدامات کیے۔ جلوس کے روٹ پر ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے اور شرکاء کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے متعلقہ سڑکوں پر عارضی طور پر ٹریفک کا متبادل پلان نافذ کیا گیا، جس کی بدولت یہ تاریخی تقریب بغیر کسی تعطل کے بخوبی اختتام پذیر ہوئی۔