کوئٹہ (ویب ڈیسک): مالیاتی سال 2026-27 کے قومی بجٹ کے سرکاری اعداد و شمار نے بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے کیے جانے والے تمام منفی پروپیگنڈوں اور مفروضوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ بجٹ دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے بلوچستان کی 14 ملین (ایک کروڑ 40 لاکھ) کی کم آبادی کے باوجود خطے کی جغرافیائی وسعت اور ترقیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیم اور صحت کے بنیادی شعبوں میں پنجاب کے مقابلے میں دگنا فی کس فنڈز مختص کر کے تاریخی سنگِ میل قائم کیا ہے۔
تعلیمی بجٹ: بلوچستان میں فی کس فنڈنگ پنجاب سے دوگنا زیادہ
پاکستان کے مجموعی تعلیمی بجٹ 2,311 ارب روپے میں سے صوبوں کو دیے جانے والے حصے میں انسانی وسائل کی ترقی کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ بجٹ کے تقابلی جائزے کے مطابق:
پنجاب کا حصہ: پنجاب کی وسیع آبادی کے لیے مجموعی طور پر 750 ارب روپے کا تعلیمی بجٹ رکھا گیا ہے، جو فی کس 5,357 روپے بنتا ہے۔
بلوچستان کا حصہ: اس کے برعکس، بلوچستان کے لیے مجموعی تعلیمی فنڈز 144 ارب روپے مقرر کیے گئے ہیں، جو کم آبادی کے باعث فی کس 10,286 روپے کی خطیر رقم بنتی ہے۔ یہ شرح پنجاب کے تعلیمی اخراجات کے مقابلے میں واضح طور پر دگنی ہے۔
صحت کا شعبہ: پروپیگنڈا کے برعکس ریکارڈ وسائل کی فراہمی
صحت کے شعبے میں جاری کیے گئے فنڈز بھی اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ وفاق خطے کی پسماندگی دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہا ہے۔ ملک کے مجموعی صحت بجٹ 1,340 ارب روپے میں سے بلوچستان کے لیے 96 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے:
بلوچستان فی کس صحت بجٹ: بلوچستان میں ہر شہری کے لیے صحت کا بجٹ 6,857 روپے بنتا ہے۔
پنجاب فی کس صحت بجٹ: اس کے برعکس پنجاب میں صحت کے شعبے کے لیے فی کس 3,571 روپے کی رقم مقرر ہے۔
یہ بجٹ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ریاست کے لیے ہر صوبہ برابر اہمیت کا حامل ہے۔ کم آبادی کے باوجود بہتر اور دگنی فی کس سرمایہ کاری بلوچستان کے نوجوانوں اور عوام کے روشن، خود انحصار اور روشن خیال مستقبل کی حقیقی ضامن بن رہی ہے۔ وفاق کو بلوچستان کا مکمل احساس ہے اور اس کی خوشحالی ہی دراصل پاکستان کی ترقی ہے۔