بھارت میں پیپر لیک اسکینڈلز: بھارتی طلباء کا مستقبل تاریک

بھارت میں پیپر لیک اسکینڈلز: بھارتی طلباء کا مستقبل تاریک

Jun 24, 2026|ویب ڈیسک

روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی اور سخت ویزا شرائط نے بھارتی نوجوانوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا

نئی دہلی: بھارت میں تعلیمی بدعنوانی، مسلسل پیپر لیک اسکینڈلز، کمزور معیشت اور بیرون ملک امیگریشن کریک ڈاؤن نے دنیا بھر میں بھارتی طلباء کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ مودی حکومت کے زیرِ سایہ تعلیمی نظام کی گرتی ہوئی ساکھ، جعلی ڈگریوں کے کاروبار اور روپے کی تاریخی بے قدری کے باعث امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ممالک نے بھارتی اسٹوڈنٹس کے لیے ویزا پالیسیاں انتہائی سخت کر دی ہیں، جس سے بھارتی نوجوان بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں۔

برطانیہ اور امریکہ جانے والے طلباء میں 20 فیصد کی بڑی کمی

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دو سالوں کے دوران برطانیہ اور امریکہ جانے والے بھارتی طلباء کی تعداد میں 20 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ مستقبل قریب میں اس میں مزید 15 فیصد کمی متوقع ہے۔


رپورٹ کے مطابق بھارتی طلباء کو درج ذیل بڑے چیلنجز کا سامنا ہے:


برطانوی یونیورسٹیوں کا بائیکاٹ: برطانیہ کی 76 فیصد یونیورسٹیوں نے جنوری کے تعلیمی سیشن میں بھارتی طلباء کے داخلوں میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کر دی ہے۔


کرنسی کی تاریخی گراوٹ: سال 2019 کے بعد سے بھارتی روپیہ دنیا کی بڑی معیشتوں اور تعلیمی ممالک کی کرنسیوں کے مقابلے میں 35 سے 47 فیصد تک اپنی قدر کھو چکا ہے، جس سے بیرون ملک تعلیم ناقابلِ برداشت حد تک مہنگی ہو گئی ہے۔


مستقبل کا تاریک منظرنامہ: گلوبل اسٹوڈنٹ فلوز رپورٹ 2026 کے مطابق، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھارتی طلباء کے داخلوں میں 2030 تک سالانہ اوسطاً 0.5 فیصد مسلسل کمی کا خدشہ ہے۔


سیاسی سرپرستی میں جعلی ڈگریاں اور معاشی تباہی

امریکی تحقیقی ادارے کی ڈائریکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی سیاستدانوں کی براہِ راست سرپرستی میں چلنے والے جعلی ڈگریوں اور رشوت خوری کے نیٹ ورکس کی وجہ سے مغربی ممالک بھارت کے خلاف سخت ویزا پالیسی اپنانے پر مجبور ہوئے۔


موجودہ دورِ حکومت میں بھارتی طلباء ایک طرف ملک کے اندر بدترین اور کرپٹ تعلیمی نظام کے ہاتھوں پس رہے ہیں، تو دوسری طرف بیرون ملک ان کے لیے روزگار اور اعلیٰ تعلیم کے دروازے تیزی سے بند ہو رہے ہیں