تازہ ترین
بلوچستان: نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر 23 ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز نوٹس جاری، ہائی لیول سیکیورٹی کمیٹی قائم نوشکی میں تاجروں کے ٹرک نذرِ آتش، بھتہ خوری کے الزامات سامنے آگئے مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: وطن کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، وزیر اعلیٰ بلوچستان بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ویمن ڈویلپمنٹ کی ژوب اور خاران میں دو ماڈل سیف ہومز کے قیام کی سفارش بلوچستان نیشنل پارٹی کی کال پر تاجر برادری اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج؛ کئی اضلاع میں جزوی ہڑتال صدر اور وزیراعظم کا بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بڑا اقدام، تربت میں جدید ترین اسپتال کا آغاز بلوچستان کے ضلع ژوب میں زلزلے کے جھٹکے،ریکٹر اسکیل پر شدت 4.1 ریکارڈ ژوب ڈیجیٹل میڈیا پالیسی یا مقامی صحافت کا جنازہ؟ بلوچستان: پانی کا بحران یا وجود کا بحران؟ نیا گریٹ گیم: امریکہ، چین اور خلیجی ممالک کی توجہ بلوچستان کے قیمتی معدنی ذخائر پر مرکوز بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 14 دہشت گرد ہلاک، ایک جوان شہید ایشین گیمز 2026: پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت صاحبزادہ فرحان کے سپرد عالمی کپ فٹ بال 2026 کے ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت، قیمتوں میں نمایاں کمی ملک میں فٹ بال کے مضبوط ڈھانچے کے لیے قومی سطح کا نیا منصوبہ منظور ہاکی کے پنالٹی کارنر کے بے تاج بادشاہ سہیل عباس 51 برس کے ہوگئے
بلوچستان خبر

ایران کی فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس میں شرکت کی باضابطہ تصدیق

ایران کی فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس میں شرکت کی باضابطہ تصدیق

تہران( سپورٹس ڈیسک) ایران نے باضابطہ طور پر فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس میں شرکت کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا، تاہم اس فیصلے کے بعد غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ایرانی حکومت کے مطابق قومی فٹبال ٹیم عالمی ایونٹ میں شرکت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور تمام ضروری انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وزارت کھیل و امور نوجوانان نے ٹیم کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے تمام اقدامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ کھلاڑی عالمی سطح پر شاندار کارکردگی دکھا سکیں۔اس سے قبل وزیر کھیل سے منسوب بعض بیانات میں شرکت نہ کرنے کا اشارہ دیا گیا تھا، تاہم حالیہ وضاحت کے بعد تمام قیاس آرائیاں ختم ہو گئی ہیں۔دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی اور حالیہ فوجی صورتحال کے باوجود ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ کھیلوں کی سرگرمیاں سیاسی حالات سے متاثر نہیں ہوں گی۔واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے بعد خطے میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے ہیں جس کے بعد ایران کی شرکت مزید یقینی قرار دی جا رہی ہے۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی پاؤلو زمپولی نے فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو سے درخواست کی تھی کہ ایران کی جگہ چار بار کی عالمی چیمپئن اٹلی کو ورلڈ کپ میں شامل کیا جائے۔