سفارتی میدان میں بھارت کو شکست، مودی سرکار عوام کے کٹہرے میں۔۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان نے عالمی سفارتی محاذ پر روایتی حریف بھارت کو واضح طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس کے بعد نئی دہلی میں مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کی ناکامی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ حالیہ دفاعی کامیابیاں اور ایران امریکہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کے نتیجہ خیز ثالثی کردار نے عالمی سطح پر اسلام آباد کے سفارتی قد کاٹھ کو ایک نئی پہچان دی ہے۔


امریکی میڈیا 'فوکس نیوز' کے اہم انکشافات

معروف امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز نے خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ بھارت اس وقت واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر اپنا سفارتی لوہا منوا چکا ہے۔


فوکس نیوز نے حالیہ جی 7 (G7) سمٹ کے حوالے سے اہم پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے:


سرد مہری کا تاثر: سمٹ کے دوران امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقات روایتی گرمجوشی کے بجائے صرف ایک رسمی مصافحے تک محدود رہی۔


نمایاں کشیدگی: بظاہر دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات دوستانہ نظر آئی، مگر اس کے پس منظر اور سفارتی تناظر میں کشیدگی اور سرد مہری صاف نمایاں تھی۔


تنہائی کی پالیسی ناکام: مودی سرکار کئی برسوں تک پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مہم چلاتی رہی، لیکن اس کے برعکس پاکستان خطے اور عالمی امور میں ایک ناگزیر اور اہم ترین ملک بن کر ابھرا ہے۔


بھارتی تجزیہ کاروں اور میڈیا کا اعترافِ شکست

پاکستان کی سفارتی پیشرفت اور مودی حکومت کی ناکامی پر اب خود بھارت کے اندر سے بھی شدید تنقید کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ممتاز بھارتی صحافی سریندر ساگر نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:


"دنیا اب خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھارت کے بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے، جو واضح طور پر مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔"


اسی طرح، نئی دہلی کے معروف سیاسی و سفارتی تجزیہ کار آنند رنگناتھن نے بھی بھارتی خارجہ پالیسی کی کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اس وقت عالمی برادری میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ نئی دہلی اپنی سفارتی حکمتِ عملی اور پالیسیوں میں فوری اور بنیادی تبدیلیاں لائے۔


بھارتی علمی و صحافتی حلقوں میں پائی جانے والی یہ گہری مایوسی اس امر کا ثبوت ہے کہ مودی راج کے دوران بھارت اپنی تاریخ کے ناکام ترین سفارتی دور سے گزر رہا ہے، جہاں وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں مسلسل ناکام دکھائی دیتا ہے