یورپی یونین اور یونیسف کی معاونت سے بلوچستان کا تعلیمی نظام مضبوط
17.4 ملین یورو کی لاگت سے 7 لاکھ سے زائد طلبہ مستفید؛ ڈیجیٹل اسکول مردم شماری مکمل
کوئٹہ: صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق یورپی یونین اور یونیسف کے ساتھ دس سالہ شراکت داری نے صوبے کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور لاکھوں بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں پانچ سالہ 'بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام' (BES-II) کے کامیاب اختتام پر منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تعلیمی ڈھانچے کی ڈیجیٹلائزیشن اور انقلابی اصلاحات
سال 2021 سے 2026 تک جاری رہنے والے اس تاریخی منصوبے کو یورپی یونین کی جانب سے 17.4 ملین یورو کی مالی امداد فراہم کی گئی۔ وزیر تعلیم کے مطابق اس پروگرام کے تحت صوبے میں پہلی بار درج ذیل انقلابی اصلاحات کی گئیں:
ڈیجیٹل مانیٹرنگ: بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل اسکول مردم شماری اور ریئل ٹائم اسکول مانیٹرنگ سسٹم کا قیام عمل میں لایا گیا۔
اساتذہ کی تربیت: ورچوئل اکیڈمی کے ذریعے 10,600 سے زائد اساتذہ کو جدید تدریسی تربیت فراہم کی گئی۔
عوامی شمولیت: 3,000 پیرنٹ ٹو ٹیچر اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو فعال کیا گیا، جس میں 16,000 سے زائد مقامی افراد نے حصہ لیا۔
ہزاروں آؤٹ آف اسکول بچوں کی دوبارہ داخلہ مہم
سیکریٹری اسکولز بلوچستان لال جان جعفر نے تقریب کو بتایا کہ اس پروگرام کے ذریعے صوبے بھر کے 1,230 اسکولوں میں پڑھنے والے 150,000 سے زائد بچوں کے تعلیمی ماحول کو بہتر بنایا گیا۔ اس کے علاوہ شارٹ کورسز اور خصوصی پروگراموں کے ذریعے 22,000 سے زائد ایسے بچوں کو دوبارہ اسکولوں میں لایا گیا جو تعلیم چھوڑ چکے تھے، اور ان میں اکثریت طالبات کی تھی۔
صنفی مساوات اور ہنگامی امداد: اس میگا پراجیکٹ سے مجموعی طور پر 7 لاکھ 60 ہزار بچوں کو معیاری تعلیم ملی، جن میں 3 لاکھ 35 ہزار سے زائد طالبات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ 6,600 سے زائد بچوں کو ہنگامی تعلیمی امداد اور 72,000 سے زائد نوجوان لڑکیوں کو صحت و صفائی کی سہولیات فراہم کی گئیں۔
تقریب کے اختتام پر یورپی یونین کے قائم مقام سربراہ ڈاکٹر سیبسٹین لوریون اور یونیسف کے نمائندے پرنیل آئرن سائیڈ نے بلوچستان حکومت کی قیادت کو سراہتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ صوبے کے ہر بچے تک یکساں، معیاری اور پائیدار تعلیم کی پہنچ یقینی بنانے کے لیے یہ عالمی تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا