تازہ ترین
نوشکی میں تاجروں کے ٹرک نذرِ آتش، بھتہ خوری کے الزامات سامنے آگئے مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: وطن کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، وزیر اعلیٰ بلوچستان بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ویمن ڈویلپمنٹ کی ژوب اور خاران میں دو ماڈل سیف ہومز کے قیام کی سفارش بلوچستان نیشنل پارٹی کی کال پر تاجر برادری اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج؛ کئی اضلاع میں جزوی ہڑتال صدر اور وزیراعظم کا بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بڑا اقدام، تربت میں جدید ترین اسپتال کا آغاز بلوچستان کے ضلع ژوب میں زلزلے کے جھٹکے،ریکٹر اسکیل پر شدت 4.1 ریکارڈ ژوب ڈیجیٹل میڈیا پالیسی یا مقامی صحافت کا جنازہ؟ بلوچستان: پانی کا بحران یا وجود کا بحران؟ نیا گریٹ گیم: امریکہ، چین اور خلیجی ممالک کی توجہ بلوچستان کے قیمتی معدنی ذخائر پر مرکوز بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 14 دہشت گرد ہلاک، ایک جوان شہید ایشین گیمز 2026: پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت صاحبزادہ فرحان کے سپرد عالمی کپ فٹ بال 2026 کے ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت، قیمتوں میں نمایاں کمی ملک میں فٹ بال کے مضبوط ڈھانچے کے لیے قومی سطح کا نیا منصوبہ منظور ہاکی کے پنالٹی کارنر کے بے تاج بادشاہ سہیل عباس 51 برس کے ہوگئے ذہنی امراض سے متعلق آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے: ماہرہ خان
بلوچستان خبر

یورپی یونین نے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو قرض اور روس پر 20واں پابندی پیکج منظور کر لیا

یورپی یونین نے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو قرض اور روس پر 20واں پابندی پیکج منظور کر لیا

برسلز( مانیٹرنگ ڈیسک)برسلز میں یورپی یونین نے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے قرض اور روس کے خلاف پابندیوں کے بیسویں پیکج کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔یورپی حکام کے مطابق دونوں فیصلوں کو ابتدائی طور پر بعض رکن ممالک کی جانب سے روکا گیا تھا، تاہم بعد ازاں سفیروں کی سطح پر اتفاق رائے پیدا ہونے کے بعد تحریری طریقہ کار کے ذریعے انہیں حتمی شکل دے دی گئی۔رپورٹ کے مطابق کسی رکن ملک نے آخری مرحلے میں اعتراض نہیں کیا، جس کے بعد قرض اور پابندیوں کے دونوں پیکج متفقہ طور پر منظور ہو گئے۔منظور شدہ مالیاتی منصوبے کے تحت یورپی یونین 2026 اور 2027 میں یوکرین کو دفاعی اور بجٹ ضروریات کے لیے مجموعی طور پر 45 ارب یورو فراہم کرے گی، جبکہ 90 ارب یورو کے قرض کے ذریعے ابتدائی مالی معاونت بھی کی جائے گی۔یورپی یونین کی قیادت نے اس فیصلے کو خطے کی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔