مودی کی بدترین خارجہ پالیسی: سوشل میڈیا تماشہ بن گئی

مودی کی بدترین خارجہ پالیسی: سوشل میڈیا تماشہ بن گئی

Jun 24, 2026|ویب ڈیسک

بھارتی جریدے 'دی پرنٹ' اور دفاعی ماہرین نے مودی کی دکھاوے کی سیاست کو ملکی مفاد کے خلاف قرار دے دیا

نئی دہلی: مودی حکومت کی ظاہری نمائش اور عالمی دوروں کے دعوؤں کے برعکس بھارت کے سفارتی تعلقات عالمی سطح پر شدید تنزلی کا شکار ہو گئے ہیں۔ امریکی-ایران کشیدگی میں پاکستان کے کامیاب مصالحتی اور قائدانہ کردار نے مودی کی نام نہاد عالمی سفارت کاری کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ بھارتی میڈیا، اپوزیشن رہنماؤں اور دفاعی مبصرین نے اعتراف کیا ہے کہ مودی کی خارجہ پالیسی ملکی مفادات کے تحفظ کے بجائے صرف ذاتی پبلسٹی کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے۔


بھارتی جریدے 'دی پرنٹ' کے سنسنی خیز انکشافات

معروف بھارتی جریدے دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی خارجہ پالیسی میں ریاست کے بجائے انفرادی قیادت کے ذاتی مفادات اور برانڈنگ کو ترجیح دیے جانے سے ملک کی دیرینہ سفارتی شناخت شدید متاثر ہوئی ہے۔ جریدے نے مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں کے درج ذیل سنگین نتائج کی نشاندہی کی ہے:


سرمایہ کاروں کا بائیکاٹ: ناقص اور غیر مستقل معاشی و سیاسی پالیسیوں کے باعث بین الاقوامی سرمایہ کار اب بھارت کا رخ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔


عالمی مذاکرات سے بے دخلی: مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر مودی حکومت کا خوف اور سفارتی بے بسی کھل کر سامنے آئی، جہاں عالمی سطح پر ہونے والے کسی بھی بڑے مذاکرات میں بھارت کو شامل تک نہیں کیا گیا۔


اپوزیشن اور دفاعی ماہرین کی کڑی تنقید

کانگریس کے سینیئر رہنما پون کھیڑا نے مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی کو ملکی مفاد کے بجائے صرف ذاتی نمائش کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے جس سے دنیا بھر میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی ہے