صوبہ بلوچستان درباری سیاست نہیں سنجیدہ قومی مکالمے کا متقاضی
بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر بدقسمتی سے مسائل کے اعتبار سے بھی یہ سب سے زیادہ عدم توجہ کا شکار نظر آتا ہے دہائیوں سے یہاں امن و امان بے روزگاری پسماندگی اور سیاسی بے اعتمادی جیسے مسائل موجود ہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ان مسائل کے مستقل حل کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں کم ہی دکھائی دیتی ہیں
جب بھی بلوچستان کے حالات پر کوئی اہم اجلاس سیمینار یا قومی سطح کی ورکشاپ منعقد ہوتے ہیں تو اکثر ایسے افراد کو مدعو کیا جاتا ہے جو زمینی حقائق سے زیادہ درباری لوگ ہوتے ہیں ایسے لوگ جو عوام کے حقیقی مسائل محرومیوں اور خدشات کو مؤثر انداز میں بیان کر سکتے ہیں اکثر متبرین نظر انداز کر دیے جاتے ہیں نتیجتاً فیصلے بھی حقائق کے بجائے خوش نما تقاریر رپورٹوں اور رسمی بریفنگز کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں بلوچستان کے عوام آج یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر امن کے قیام کے لیے اربوں روپے سالانہ خرچ ہو رہے ہیں سیکیورٹی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار قربانیاں دے رہے ہیں تو پھر عام شہری آج بھی عدم تحفظ کیوں محسوس کرتا ہے کیوں اغوا ٹارگٹ کلنگ جرائم اور خوف کی فضا مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی ان سوالات کے جوابات محض اعداد و شمار میں نہیں بلکہ زمینی حقائق میں تلاش کرنے ہوں گے حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں ایسے عناصر کو مصنوعی طور پر بااثر اور معتبر بنا دیا گیا ہے جن کی اصل پہچان عوامی خدمت نہیں بلکہ ذاتی مفادات سے جڑی ہوئی ہے جب باکردار اہل اور باوقار شخصیات کی جگہ ایسے افراد فیصلہ سازی کے مراکز تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں تو مسائل کے حل کے بجائے پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں
آج بلوچستان صرف سیکیورٹی چیلنجز کا شکار نہیں بلکہ معاشی مشکلات کا بھی سامنا کر رہا ہے بے روزگاری اپنی انتہا کو چھو رہی ہے کاروباری سرگرمیاں محدود ہیں صنعتوں کا فقدان ہے اور بارڈر ٹریڈ کی بندش نے ہزاروں خاندانوں کے روزگار کو متاثر کیا ہے نوجوان مایوسی کا شکار ہیں اور بنیادی سہولیات تک رسائی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ایسے حالات میں عوام کی توقع ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی اعلیٰ قیادت بلوچستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کرے قبائلی عمائدین سیاسی اکابرین دانشوروں نوجوانوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ براہِ راست مکالمہ کرے مسائل کو ان لوگوں کی زبان سے سنا جائے جو روزانہ ان کا سامنا کرتے ہیں جو ان برے حالات سے گزر رہے ہیں بلوچستان کے مستقبل کا فیصلہ بند کمروں میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے جڑا ہوا ہے اسی طرح جعلی اثر و رسوخ رکھنے والے عناصر اور نام نہاد کمانڈروں کے کردار کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے ریاست کی رٹ صرف اسی وقت مضبوط ہوگی جب قانون سب کے لیے یکساں ہوگا اور عوام کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی بلوچستان کے عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور اپنے قومی اداروں کا احترام کرتے ہیں وہ ترقی امن اور استحکام چاہتے ہیں ان کی خواہش صرف یہ ہے کہ ان کی آواز سنی جائے ان کے مسائل کو تسلیم کیا جائے اور ان کے مستقبل کو سیاسی مصلحتوں کی نذر نہ کیا جائے آخر میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ قومی شخصیات اور تاریخی کرداروں کے بارے میں گفتگو کرتے وقت شائستگی تحمل اور احترام کو مقدم رکھا جانا چاہیے اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حسن ہے لیکن ایسے الفاظ سے گریز ضروری ہے جو عوام کے جذبات کو مجروح کریں قوموں کی تاریخ میں بعض شخصیات اپنے نظریات قربانیوں اور کردار کی وجہ سے عوامی یادداشت کا حصہ بن جاتی ہیں اور ان کے بارے میں گفتگو ہمیشہ وقار اور ذمہ داری کی متقاضی ہوتی ہے گزشتہ روز سابق نگران وزیر اعظم کے انٹرویو سے بلوچستانی عوام کی دل آزاری ہوئی ہے اور سارے بلوچستانی عوام نے ان کے انٹرویو کی مذمت کی ہے بلوچستان آج بھی پاکستان کے لیے ایک امید ہے ایک طاقت ہے اور ایک روشن مستقبل کا دروازہ ہے شرط صرف یہ ہے کہ اسے درباری سیاست کے بجائے خلوص انصاف ترقی اور عوامی شراکت داری کے اصولوں پر آگے بڑھایا جائے جب عوام کی آواز فیصلہ سازی کا حصہ بنے گی تو یقیناً بلوچستان بھی امن خوشحالی اور استحکام کی نئی منزلوں کی طرف گامزن ہوگا آج ہمارے ملک میں جو حق اور سچ کی باتیں کرے اس کو غداری کے لقابات سے پکارہ جاتا ہے جو بلکل مناسب نہیں ہمارے حکمرانوں کو سچ اور زمینی حقائق کا سامنا کرنا چاہئے نہ کے رو گردانی کر کے مسائل کو مزید الجھانا چاہئے جناب وزیر صاحب ہم زمینی حقائق آپ کے گوش گزار کرتے ہیں گے ان مسائل کو آپ نے ٹھیک کرنا ہے عملی اقدامات سے ہی بلوچستان کے حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں ایک دن کے طوفانی دوروں سے کچھ نہیں ہو گا آپ حضرات اس وقت بلوچستان کا طوفانی دورہ کرتے ہیں جب یہاں سینکڑوں لوگ شہید ہوتے ہیں عام حالات میں بلوچستان کے حالات کو ٹھیک کرنے کے لئے آپ اور آپ کی کابینہ کے پاس وقت نہیں ایسا نہ ہو کے آپ صاحبان کی لاپرواہی بلوچستان کے حالات کو مزید بد امنی کے طرف دھکیل دیں