تعلیم اور صحت میں بلوچستان کا فی کس بجٹ دوسرے صوبوں سے آگے

کوئٹہ (ویب ڈیسک): بلوچستان میں عوامی سہولیات کی بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے حکومتی عزم اب عملی اقدامات میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ حالیہ بجٹ دستاویزات کے مطابق، بلوچستان نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں فی کس بجٹ کی فراہمی کے لحاظ سے ملک کے دیگر صوبوں کو واضح طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

پنجاب اور بلوچستان کے تعلیمی بجٹ کا موازنہ

بجٹ دستاویزات سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بلوچستان حکومت نے اپنی کم آبادی کے باوجود تعلیم کے شعبے کے لیے ریکارڈ فنڈز مختص کیے ہیں:

پنجاب: پنجاب کی 12 کروڑ 76 لاکھ سے زائد آبادی کے لیے مجموعی طور پر 750 ارب روپے کا تعلیمی بجٹ مختص کیا گیا ہے، جو فی کس 5,873 روپے بنتا ہے۔

بلوچستان: اس کے مقابلے میں بلوچستان کی 1 کروڑ 48 لاکھ سے زائد آبادی کے لیے 144 ارب روپے کا تعلیمی بجٹ رکھا گیا ہے، جو فی کس 9,668 روپے بنتا ہے۔ یہ رقم پنجاب کے مقابلے میں فی کس شرح کے لحاظ سے کہیں زیادہ ہے۔

شعبہ صحت: بلوچستان میں فی کس فنڈنگ میں نمایاں اضافہ

صحت کے شعبے میں بھی بلوچستان حکومت نے مثالی بجٹ مختص کر کے عوامی بہبود کو ترجیح دی ہے:

پنجاب: پنجاب میں صحت کے شعبے کے لیے 500 ارب روپے مختص ہیں، جو فی کس 3,915 روپے بنتے ہیں۔

بلوچستان: بلوچستان کی آبادی کے لیے صحت کا کل بجٹ 96 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو فی کس 6,445 روپے کی خطیر رقم بنتی ہے۔

مقامی معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں پر اس قدر بھاری سرمایہ کاری صوبائی حکومت کی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان اقدامات سے دور دراز اضلاع میں اسکولوں، کالجوں اور ہسپتالوں کی حالت زار بہتر ہونے اور مقامی آبادی کا معیارِ زندگی بلند ہونے کی قوی امید ہے۔