کوئٹہ — وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے تعلیم اور سماجی ترقی میں عوامی شراکت داری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کا خواب صرف کمیونٹی کے فعال کردار سے ہی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان سے تعلق رکھنے والے نامور قبائلی و سماجی رہنما سردار احمد خان غیب زئی کی قیادت میں ملاقات کرنے والے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
گلستان میں تعلیمی و فلاحی اقدامات کی تعریف
ملاقات کے دوران وفد نے وزیراعلیٰ کو گلستان میں جاری نچلی سطح کے فلاحی اور تعلیمی منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ وفد نے بتایا کہ مقامی سطح پر غیر سرکاری اور کمیونٹی کے تعاون سے:
غریب طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع کو وسعت دی جا رہی ہے۔
مقامی سماجی ڈھانچے اور فلاحی نیٹ ورک کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
سرکاری اسکولوں کی معاونت کے لیے عوامی فنڈنگ کا نظام وضع کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے عوامی شراکت داری کے تحت ہونے والی اس پیش رفت پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت ایسے تمام فلاحی اقدامات کی بھرپور حوصلہ افزائی کرے گی۔
"تعلیم اور سماجی ترقی کے شعبوں میں نجی اور کمیونٹی کے زیر اثر کوششیں نہ صرف قابل تحسین ہیں، بلکہ جب یہ سرکاری اداروں کے ساتھ ملتی ہیں تو پائیدار ترقی کی بنیاد بنتی ہیں۔" — میر سرفراز بگٹی
'گلستان تعلیمی ماڈل' پورے بلوچستان میں پھیلانے کا عزم
وزیراعلیٰ نے وفد کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت گلستان کے اس کامیاب عوامی تعلیمی ماڈل کی سرپرستی کرے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس ماڈل کو بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بھی نافذ کیا جائے تاکہ ہر شہری کو تعلیم تک یکساں رسائی حاصل ہو سکے۔
صوبائی حکومت کی ترجیحات اور اہداف
میر سرفراز بگٹی نے اپنی حکومت کی ترجیحات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی حالت زار بدلنا ان کا اولین ہدف ہے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل امور پر ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے:
بنیادی سہولیات کی فراہمی: اسکولوں میں پینے کے صاف پانی، بجلی اور واش رومز کی دستیابی۔
معیارِ تعلیم میں بہتری: اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانا اور جدید تدریسی طریقے متعارف کروانا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سماجی خدمات میں عوام کی شمولیت سے ترقیاتی عمل زیادہ شفاف ہوگا اور ایک خود انحصار اور روشن خیال معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے گی