مودی حکومت کی ترمیم شدہ غیر ملکی فنڈنگ پالیسی: ایمنسٹی کا کالا قانون واپس لینے کا مطالبہ
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت آٹھ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت میں فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (FCRA) میں کی گئی حالیہ ترامیم کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ ضوابط اصل میں این جی اوز، سول سوسائٹی اور حکومت پر تنقید کرنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کا ایک منظم ریاستی ہتھکنڈہ ہیں۔
ایک دہائی میں 22 ہزار سے زائد تنظیموں پر پابندی
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جامع رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 سال کے دوران بھارتی حکومت 22,498 انسانی حقوق اور فلاحی تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر چکی ہے۔ نئے قواعد و ضوابط کے باعث پالیسی ریسرچ، قانونی اصلاحات، عوامی شعور اور حکومتی احتساب پر کام کرنے والے ہزاروں ادارے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016 میں خبردار کر چکے ہیں کہ بھارتی قوانین بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہیں اور انہیں آزادانہ تنظیم سازی کے بنیادی حق کو سلب کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اہم نکات
مشترکہ اعلامیہ: 8 عالمی تنظیموں نے ایف سی آر اے (FCRA) کی سخت ترامیم کو فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
رجسٹریشنوں کی منسوخی: مودی حکومت کے 10 سالہ دور میں 22,498 سے زائد این جی اوز پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔
عالمی تحفظات: اقوام متحدہ کے مطابق یہ قوانین مالیاتی شفافیت کے بجائے تنقیدی آوازوں کو دبانے کا وسیلہ بن چکے ہیں۔