مودی سرکار کا ظلم: نوجوان عمر خالد کا مستقبل بغیر ٹرائل جیل کی نذر
دی گارڈین اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کا بھارتی عدالتی نظام اور حکومت پر سنگین سوالات کا بوچھاڑ
نئی دہلی / لندن: مودی حکومت کے سخت ریاستی اقدامات اور سیاسی انتقام کے باعث معروف مسلم طالب علم رہنما عمر خالد کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ بغیر کسی جرم اور عدالتی ٹرائل کے گزشتہ چھ سال سے جاری قید نے بھارتی جمہوریت اور مودی سرکار کے فاشسٹ چہرے کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔
عالمی شہرت یافتہ برطانوی جریدے 'دی گارڈین' کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، سال 2019 میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے دوران نوجوان عمر خالد مودی حکومت کے لیے پہلا اور سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھرے تھے۔
دہشت گردی کے الزامات اور گودی میڈیا کا منفی کردار
مودی حکومت نے حق کی آواز کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا ہے:
ستمبر 2020 کی گرفتاری: مودی حکومت نے ستمبر 2020 میں عمر خالد پر دہشت گردی کا جھوٹا الزام عائد کر کے انہیں پابندِ سلاسل کیا۔
فسادات کا جھوٹا الزام: بھارتی سرکار نے عمر خالد پر دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا بے بنیاد الزام لگایا۔
میڈیا ٹرائل: 'دی گارڈین' کے مطابق، مودی نواز بھارتی میڈیا نے منظم طریقے سے نفرت انگیز مہم چلا کر عمر خالد کو 'مسلمان دہشت گرد' اور 'ملک دشمن' کے طور پر پیش کیا۔
20 کروڑ بھارتی مسلمانوں کا مقدمہ اور عالمی حمایت
عمر خالد نے مودی حکومت کے دورِ اقتدار میں 20 کروڑ بھارتی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک اور ریاستی ہراسانی کے خلاف مضبوط آواز اٹھائی تھی۔ ان کی اس جرات مندانہ جدوجہد پر عالمی سطح سے بھی ردعمل آ رہا ہے۔ نیویارک کے معروف رہنما زوہران ممدانی نے عمر خالد کو جیل میں یکجہتی کا خصوصی پیغام بھیجا ہے۔
عالمی برادری کے ساتھ ساتھ خود بھارت کے اندر سے بھی اس ناانصافی پر آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ کانگریس کے سینئر رہنما راشد علوی نے بغیر ٹرائل اور ضمانت کے عمر خالد کی طویل قید کو دنیا بھر میں بھارت کی بدنامی کا سبب قرار دیا ہے۔
"کسی بھی شخص کو باقاعدہ مقدمہ چلائے بغیر سالہا سال قید رکھنا انسانی آزادی، انصاف اور انسانی وقار کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے،" بھارتی محقق ڈاکٹر بنوجیوتسنا لاہری نے مودی حکومت کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا۔
H3: عمر خالد کیس کے اہم ترین سٹرٹیجک نکات
6 سالہ جبر: عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے عمر خالد کی بغیر ٹرائل قید کو غیر منصفانہ اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا حربہ: یہ کیس واضح کرتا ہے کہ مودی راج میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کا مستقبل جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔
عالمی دباؤ میں اضافہ: دی گارڈین کی رپورٹ اور بین الاقوامی رہنماؤں کے بیانات نے نئی دہلی کو عالمی سفارتی محاذ پر کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے