یروشلم / واشنگٹن — اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف مستقبل میں کسی بھی فوجی کارروائی یا آبنائے ہرمز میں بحری آپریشن کا فیصلہ مکمل طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیار میں ہوگا۔
“ایران کا معاملہ ختم نہیں ہوا” — نیتن یاہو
بنجمن نیتن یاہو نے امریکی چینل CNBC کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ خطے میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ایران کے ساتھ کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق ایران کے اسٹریٹجک نیٹ ورکس کو نقصان پہنچا ہے، تاہم صورتحال اب بھی انتہائی حساس ہے۔
واشنگٹن کی منظوری کلیدی حیثیت رکھتی ہے
نیتن یاہو نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی بڑے فوجی آپریشن کی حتمی اجازت واشنگٹن سے ملے گی۔ ان کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج مکمل طور پر تیار ہیں، لیکن کارروائی کا فیصلہ صرف امریکی صدر کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کا بنیادی ہدف حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے تاکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مستقل سیکیورٹی فاصلہ قائم کیا جا سکے۔
امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات پر وضاحت
اسرائیلی وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی خبروں کو کم اہم قرار دیا اور کہا کہ اسٹریٹجک سطح پر تعاون جاری ہے، تاہم بعض اوقات پالیسی اختلافات ضرور سامنے آتے ہیں۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان رابطے
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہر 48 گھنٹے بعد مشاورت ہوتی ہے، جس میں خطے کی صورتحال اور عسکری حکمت عملی پر بات چیت کی جاتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ناراضی کی اطلاعات
دوسری جانب واشنگٹن سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے مبینہ طور پر اسرائیل کے لبنان پر حملوں اور دھمکی آمیز بیانات پر سخت ردعمل دیا ہے، اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔