کوئٹہ (ویب ڈیسک): بلوچستان میں ایک انتہائی افسوس ناک اور دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں محمد آصف نامی شخص نے اپنے بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی。 مرنے سے قبل ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں محمد آصف نے انکشاف کیا کہ ان کے کچھ پڑوسی انہیں شدید ہراساں اور تنگ کر رہے تھے، جس سے مجبور ہو کر انہوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا。
معاونِ خصوصی بابر یوسفزئی نے اپنے خصوصی ویڈیو بیان میں بتایا کہ حکومتِ بلوچستان نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے。 پولیس نے نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور معاملے کی تفصیلی انکوائری جاری ہے。 واقعے میں نامزد ایک سرکاری ملازم ملزم کو حکومتِ بلوچستان کی جانب سے فوری طور پر ملازمت سے معطل بھی کر دیا گیا ہے。
خواتین اور بیٹیاں ہماری ریڈ لائن ہیں، ہراسانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
بابر یوسفزئی نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ معاشرے میں کسی بھی قسم کی ہراسانی، بلیک میلنگ یا ظلم کی صورت میں قانون کو ہاتھ میں لینے یا مایوسی میں اپنی جان لینے کے بجائے حکومت سے رجوع کریں۔
"وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی واضح ہدایات ہیں کہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہماری 'ریڈ لائن' ہیں۔ ان کی حفاظت اور عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی بھی درندہ یا انسان نما حیوان ہماری خواتین کو ہراساں کرے گا، تو اسے عبرت ناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔"
وزیرِ اعلیٰ اور وزارتِ داخلہ کے کمپلینٹ سیلز فعال
شہریوں کی سہولت اور فوری انصاف کے لیے درج ذیل پلیٹ فارمز پر شکایات درج کروانے کی تاکید کی گئی ہے:
وزیرِ اعلیٰ کمپلینٹ سیل: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اس سیل کی خود نگرانی کرتے ہیں اور ہر شہری کی شکایت پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔
وزارتِ داخلہ کمپلینٹ سیل: امن و امان اور ہراسانی کے خاتمے کے لیے وزارتِ داخلہ کا سیل بھی چوبیس گھنٹے فعال ہے۔
بابر یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ "آپ کی جان انتہائی قیمتی ہے اور شہریوں کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ کام کی جگہ (Workplace) پر یا معاشرے میں کہیں بھی کوئی پریشانی ہو، تو حکومت تک اپنی آواز پہنچائیں۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔