طالبان کی پالیسیوں سے افغانستان کیلئے امدادی فنڈز میں ریکارڈ کمی

طالبان کی پالیسیوں سے افغانستان کیلئے امدادی فنڈز میں ریکارڈ کمی

Jul 4, 2026|ویب ڈیسک

​کابل — طالبان رجیم کی سخت گیر اور انتہا پسندانہ پالیسیوں کے باعث افغانستان ہر گزرتے دن کے ساتھ شدید عالمی سفارتی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ ہونے کی بڑی قیمت معصوم افغان عوام کو ایک سنگین اور بدترین انسانی بحران کی صورت میں ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

​نارویجن ریفیوجی کونسل (NRC) کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، افغانستان کے لیے عالمی امدادی فنڈنگ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس سے امدادی کام بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

ہر 6 ڈالرز میں سے صرف ایک دستیاب، امریکی امداد مکمل بند

​نارویجن ریفیوجی کونسل کی رپورٹ میں افغانستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے انتہائی تشویشناک اعداد و شمار سامنے لائے گئے ہیں:

​امدادی فنڈز کا سنگین بحران: رپورٹ کے مطابق افغانستان کی زمینی ضرورت کے برعکس، ہر 6 ڈالرز میں سے صرف ایک ڈالر دستیاب ہے، جبکہ باقی رقم کا تاحال کوئی متبادل موجود نہیں۔

​امریکی فنڈنگ کا خاتمہ: امریکہ، جو ماضی میں افغانستان کی مجموعی عالمی امداد کا 40 فیصد اکیلا فراہم کرتا تھا، اب اپنی تمام مالی امداد مکمل طور پر بند کر چکا ہے۔

افغانستان پہلی بار 'نظرانداز شدہ بحرانوں' کی عالمی فہرست میں شامل

​میڈیا آؤٹ لیٹ افغانستان انٹرنیشنل نے اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ افغانستان اب دنیا کے سب سے کم فنڈنگ حاصل کرنے والے انسانی بحرانوں میں شامل ہو چکا ہے۔ مزید برآں، یہ پہلا موقع ہے کہ پناہ گزین کونسل نے افغانستان کو دنیا کے نظرانداز شدہ ترین بحرانوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

​ماہرین کی رائے: انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں، دہشت گردی کی مبینہ سرپرستی اور منشیات فروشی جیسے سنگین معاملات نے افغان طالبان کو پوری دنیا کے لیے ناقابل قبول بنا دیا ہے۔

​افغان امور کے نامور جرمن مبصر تھامس رُٹیگ نے متبادل سفارتکاری پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ عالمی برادری کو اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "جب تک طالبان تمام افغان شہریوں اور بالخصوص خواتین کے انسانی حقوق کا عملی احترام ثابت نہیں کرتے، انہیں کسی صورت سفارتی طور پر تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے۔"