اسلام آباد: پاکستان کی آٹو موبائل صنعت تیزی سے جدید، ماحول دوست اور الیکٹرک گاڑیوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مؤثر معاونت کے باعث گزشتہ تین برسوں میں اس شعبے میں نمایاں غیر ملکی سرمایہ کاری، پالیسی اصلاحات اور صنعتی ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔
اس تبدیلی کا مرکزی نقطہ الیکٹرک وہیکل (EV) پالیسی ہے، جس نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی آٹو موبائل کمپنیوں کے لیے ایک پرکشش مارکیٹ بنا دیا ہے۔
عالمی آٹو موبائل کمپنیاں پاکستان کا رخ کرنے لگیں
کاروبار دوست ماحول اور سرمایہ کاری کی سہولتوں کے باعث کئی معروف بین الاقوامی آٹو موبائل برانڈز پاکستان میں اپنی موجودگی کو وسعت دے رہے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
- BYD (بلڈ یور ڈریمز)
- GAC (گوانگژو آٹوموبائل گروپ)
- Changan
- Denza
- Omoda
- Jaecoo
مزید برآں، لکی موٹر کارپوریشن اور چین کے گوانگژو آٹوموبائل گروپ (GAC) کے درمیان حالیہ شراکت داری کو پاکستان کی صنعتی صلاحیتوں پر عالمی اعتماد کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
پیداوار میں اضافہ اور عالمی مارکیٹ سے ربط
پاکستان کی آٹو صنعت اس وقت سالانہ تقریباً پانچ لاکھ گاڑیاں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو ملکی ضروریات کے ساتھ ساتھ برآمدی مواقع سے فائدہ اٹھانے کی بھی اہل ہے۔
ایس آئی ایف سی مقامی صنعت کو عالمی آٹو موبائل ویلیو چین کا حصہ بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ نئی آٹو پالیسیوں اور برآمدی منصوبوں کے ذریعے پاکستان کو بین الاقوامی مارکیٹ سے جوڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔
جدید اور پائیدار مستقبل کی جانب پیش رفت
مقامی مینوفیکچرنگ، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور الیکٹرک موبیلٹی کو فروغ دے کر پاکستان کا آٹو سیکٹر روایتی صنعت سے نکل کر ایک جدید، پائیدار اور ٹیکنالوجی پر مبنی مستقبل کی جانب گامزن ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف صنعتی ترقی بلکہ روزگار، برآمدات اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔