تازہ ترین
بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے عالمی حامی کھل کر سامنے آگئے مشرقِ وسطیٰ میں سفارت کاری کا نیا رخ؛ پاکستان کے ذریعے امریکا ایران مذاکرات، ٹرمپ کی نیتن یاہو کو سخت وارننگ صومالی ریفری عمر ارتان کو امریکا میں داخلے سے روک دیا گیا انگلینڈ-بھارت ٹی ٹوئنٹی سیریز: میچز کے اوقات کار میں تبدیلی پاکستان خواتین کے دو انٹرنیشنل ٹینس ٹورنامنٹس کی میزبانی کرے گا شاہین شاہ آفریدی ٹیسٹ کیمپ سے باہر، وائٹ بال اسکواڈ میں شامل ثنا نواز کی نئی فیشن مہم سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی جاوید جعفری کی اہلیہ سرمایہ کاری کے نام پر کروڑوں روپے کے فراڈ کا شکار انیس بزمی نے ’نو انٹری 2‘ میں تاخیر کی وجہ بتا دی کنگنا رناوت نے فلموں میں خواتین کی پیشکش پر سوالات اٹھا دیے ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی,بلوچ روایت کے چہرے پر سیاہ داغ افغان طالبان رجیم کا خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن؛ لباس کی آڑ میں جبری گرفتاریاں، عالمی برادری سراپا احتجاج اداروں اور سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال، معیشت استحکام کی جانب گامزن کی 3 سالہ کارکردگی: پاکستان کے شعبہ صحت میں انقلابی تبدیلیاں اور ریکارڈ 42 ارب کا منافع SIFC کوئٹہ: وحدت کالونی میں گھریلو ناچاقی پر خاتون اور 4 بچوں کا قتل، صوبائی وزیر داخلہ کا نوٹس، 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کوئٹہ میں خاتون اور چار بچوں کے قتل پر وزیر داخلہ بلوچستان کا اظہارِ افسوس
بلوچستان خبر

صومالی ریفری عمر ارتان کو امریکا میں داخلے سے روک دیا گیا

صومالی ریفری عمر ارتان کو امریکا میں داخلے سے روک دیا گیا

وا شنگٹن( سپورٹس ڈیسک)فیفا ورلڈ کپ کے سلسلے میں جانے والے صومالی ریفری عمر ارتان کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہ مل سکی۔صومالیہ کی وزارتِ کھیل کے ایک مشیر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایوارڈ یافتہ ریفری عمر ارتان کو ٹورنامنٹ کے لیے امریکا میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، جہاں انہیں ورلڈ کپ کے دوران میچز میں ذمہ داریاں انجام دینا تھیں۔صومالی حکام کے مطابق عمر ارتان ملک کی جانب سے فیفا ورلڈ کپ میں نمائندگی کرنے والے پہلے ریفری تھے، اور ان کی شرکت صومالی فٹبال کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی تھی۔حکام نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں طے شدہ میچز میں شرکت سے روکنا نہ صرف ان کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ کھیلوں کی روح اور بین الاقوامی فٹبال اصولوں کے بھی منافی ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ اس اقدام کے باعث عالمی سطح پر صومالیہ کی نمائندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔