6 ستمبر 1965: اکھنور کے محاذ پر جان نچھاور کرنے والے سرفروشوں کو قوم کا سلام
6 ستمبر 1965: اکھنور کے محاذ پر جان نچھاور کرنے والے سرفروشوں کو قوم کا سلام
ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے چھٹے روز پاک فوج کے پانچ نڈر افسران نے مقبوضہ کشمیر کے محاذ پر شجاعت کی وہ داستانیں رقم کیں جو آج بھی قوم کا لہو گرماتی ہیں۔ مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر ان مایہ ناز سپوتوں نے دشمن کے دانت کھٹے کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور یہ ثابت کر دیا کہ جذبہِ ایمانی کے سامنے کوئی بھی عسکری طاقت نہیں ٹک سکتی۔
اکھنور، جوڑیاں اور چھمب کے محاذوں پر لڑی جانے والی اس خونریز جنگ میں ان افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔
شجاعت کی لازوال داستانیں
جنگ کے چھٹے روز সম্মুখ کی لڑائی میں بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جن افسران نے شہادت کا عظیم رتبہ پایا، ان کے کارنامے عسکری تاریخ کا روشن باب ہیں:
میجر فخر عالم خان شہید: اکھنور کے محاذ پر دشمن پر قہر بن کر ٹوٹنے والے میجر فخر عالم نے تنِ تنہا دشمن کی 14 آرٹلری گنز قبضے میں لے کر ان کی کمر توڑ دی۔ اس گھمسان کے رن میں ان کے ٹینک کو دشمن کا گولہ لگا اور وہ مرتبۂ شہادت پر فائز ہو گئے۔
کیپٹن خالد حمید لودھی شہید: یہ نڈر افسر تروٹی اور جوڑیاں کے محاذوں پر فتح کے جھنڈے لہرانے کے بعد اپنے حتمی ہدف، اکھنور کی جانب پوری قوت سے گامزن تھا۔ اسی پیش قدمی کے دوران وہ دشمن کی گولیوں کا نشانہ بنے اور وطن پر قربان ہو گئے۔
میجر محمد سرور شہید: دشمن کی صفوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے ہوئے میجر سرور تیزی سے اکھنور کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اسی دوران ان کے ٹینک کو گولہ لگا جس سے ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی اور وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔
کیپٹن اسلام احمد خان شہید: مقبوضہ کشمیر میں اکھنور کے قصبے دیوی پور کے مقام پر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہونے والے کیپٹن اسلام احمد خان نے آخری سانس تک بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔
میجر محمد منیر خان شہید: نجلے چک کے قریب دشمن کو ناکوں چنے چبوانے والے اس دلیر افسر کو جنگ کے دوران اینٹی ٹینک رائفل کا برسٹ لگا جس سے انہوں نے شہادت کا تاج پہنا۔
تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف
یہ پانچوں شہداء اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ جب مٹی کا قرض چکانے کی باری آتی ہے تو پاک فوج کے جوان اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے۔ کیپٹن اسلام احمد خان، میجر فخر عالم خان، میجر محمد منیر خان، میجر محمد سرور اور کیپٹن خالد حمید لودھی کا نام 1965 کی جنگ کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا، اور ان کی بہادری آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی