مولانا ہدایت الرحمان کی بلوچستان اسمبلی میں گوادر بارڈر پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے قرارداد پیش
بلوچستان اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے گوادر بارڈر کے حوالے سے قرارداد نمبر 83 پیش کر دی ہے، جس میں حکومت سے سرحدی علاقے میں بنیادی سہولیات کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرارداد کا پس منظر اور مطالبات
قرارداد کے متن کے مطابق گوادر بارڈر ایک قانونی گزرگاہ ہے جس سے ہزاروں مقامی افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ اس کے باوجود، بارڈر سے حاصل ہونے والی محصولات اور آمدن کے باوجود وہاں زندگی گزارنے والے تاجر اور عام شہری پینے کے صاف پانی، بجلی، انٹرنیٹ اور رابطہ سڑکوں جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔
قرارداد میں درج اہم مطالبات درج ذیل ہیں:
• بنیادی سہولیات کی فراہمی: بارڈر پر پینے کے صاف پانی، بجلی اور انٹرنیٹ کی فوری تنصیب۔
• انفراسٹرکچر کی تعمیر: تاجروں اور مقامی آبادی کے لیے رابطہ سڑکوں کی تعمیر۔
• سرحدی تجارت کا فروغ: بارڈر کو مکمل طور پر فعال بنانا تاکہ مقامی معیشت اور تجارت کو فروغ مل سکے۔
عوامی مسائل کا حل ترجیح ہے: مولانا ہدایت الرحمان
یہ قرارداد مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کے حال ہی میں گوادر بارڈر کے دورے کا نتیجہ ہے، جہاں انہوں نے تاجر برادری سے ملاقات کے دوران انہیں درپیش اذیت ناک حالات کا مشاہدہ کیا تھا۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا تھا کہ وہ تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے۔
اس اقدام کا مقصد سرحدی تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے مقامی آبادی کی خوشحالی اور معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔