مودی کی مسلمان دشمنی میں بنایا گیا رام مندر کرپشن کے بڑے اسکینڈل کی زد میں
نئی دہلی: بھارت میں اہم ریاستی انتخابات سے قبل ایودھیا میں تعمیر کردہ رام مندر کا میگا کرپشن اسکینڈل مودی حکومت کے لیے شدید رسوائی اور سیاسی دھچکے کا سبب بن گیا ہے۔ خود کو ہندو عقیدے کا محافظ قرار دینے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا بیانیہ مندر فنڈز میں لاکھوں ڈالر کی ہیرا پھیری کے انکشاف کے بعد خاک میں مل گیا ہے۔
عالمی جریدے ’الجزیرہ‘ کے سنسنی خیز انکشافات
عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، رام مندر کی انتظامیہ نے دنیا بھر سے ہندو عقیدت مندوں کی طرف سے دیے گئے کروڑوں ڈالرز کے عطیات میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کی ہے۔
یاد رہے کہ یہ مندر 1992 میں انتہا پسند ہندو ہجوم کے ہاتھوں شہید کی جانے والی تاریخی بابری مسجد کی جگہ مودی حکومت کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، بی جے پی طویل عرصے سے رام مندر مہم کو اپنے مرکزی سیاسی اور انتخابی ایجنڈے کے طور پر استعمال کرتی آئی ہے، لیکن اس مالیاتی اسکینڈل نے مذہب کے نام پر جاری سیاسی دھوکہ دہی کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کے سنگین الزامات: 5000 کروڑ روپے کا غبن
بھارتی حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اس اسکینڈل پر مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور اسے ملکی تاریخ کا بڑا مذہبی مالیاتی اسکینڈل قرار دیا ہے۔
ملکارجن کھرگے (صدر، آل انڈیا کانگریس کمیٹی): کانگریس صدر نے انکشاف کیا ہے کہ رام مندر کی تعمیر اور فنڈز میں تقریباً 5,000 کروڑ روپے کی میگا کرپشن کی گئی ہے۔
اکھلیش یادو (سربراہ، سماجوادی پارٹی): ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، اکھلیش یادو نے وزیر اعظم مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "مودی حکومت کے لیے قوم پہلے نہیں، بلکہ چندہ پہلے ہے"۔
کلیدی نکات (Key Takeaways)
انتخابی اثرات: ریاستی انتخابات سے عین قبل اس اسکینڈل کے سامنے آنے سے بی جے پی کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔
بیانیے کی ناکامی: ہندوتوا کارڈ کے ذریعے ووٹ بینک مضبوط کرنے کی کوشش اب مودی حکومت کے گلے کا پھندا بن چکی ہے۔
مذہبی دھوکہ دہی: مودی کی سرپرستی میں چلنے والے اس منصوبے نے ثابت کر دیا ہے کہ مذہب کو محض سیاسی فوائد اور مالیاتی کرپشن کے لیے استعمال کیا گیا۔