تازہ ترین
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا اسمبلی میں دوٹوک موقف: ’یہ ملک اور فوج ہماری ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرائی گئی تو ایوان میں بیٹھنے کا فائدہ نہیں‘ وزیراعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں بڑا اعلان: ’پاکستان ہے تو ہم ہیں، پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں، میثاقِ جمہوریت کیلئے تیار ہوں‘ بلوچستان کابینہ کا اہم فیصلہ: 8 فروری 2027 کو بلدیاتی ادارے تحلیل کرنے کی منظوری، بڑے پیمانے پر انتظامی و معاشی اصلاحات کی توثیق اس طریقے سے ملک نہیں چلایا جا سکتا‘: قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا دھواں دھار خطاب شمالی وزیرستان میں بڑا آپریشن: 72 گھنٹوں میں فتنہ الخوارج کے 4 اہم کمانڈروں سمیت 48 دہشت گرد ہلاک محرم الحرام 2026: کوئٹہ کیلئے فول پروف سیکیورٹی پلان فائنل، فضائی نگرانی کا فیصلہ وفاقی بجٹ 2026-27: 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں اضافہ اور ٹیکسز میں بڑا ریلیف کوئٹہ: تیزاب گردی کے واقعے پر خواتین ڈاکٹرز کا ہنگامی احتجاج، سول ہسپتال کی سکیورٹی پر سنگین سوالات 2022 کے سیلاب کے بعد بحالی کا کام نہ ہو سکا اوچ پاور پلانٹ مرکزی ٹاور دھماکے سے تباہ، بجلی منقطع دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ میں ’شندور پولو فیسٹیول 2026‘ کا رنگا رنگ آغاز، گورنر کے پی کے نے افتتاح کر دیا چائلڈ لیبر کا خاتمہ اور بچوں کو تعلیم کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان وفاقی بجٹ 2026-27: حجم 17.5 ٹریلین روپے سے زائد رکھنے کی تجویز؛ تنخواہ دار طبقے کیلئے 50 ارب کا ٹیکس ریلیف متوقع طاقت کسی مسئلے کا حل نہیں مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ چکلالہ گیریژن میں ادا، وزیراعظم اور عسکری قیادت کی شرکت وزیر اعظم شہباز شریف سے ارکانِ قومی اسمبلی کی ملاقاتیں، حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی صورتحال پر مشاورت
بلوچستان خبر

شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ، مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی اور پالیسی اختلافات نمایاں

شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ، مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی اور پالیسی اختلافات نمایاں

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کے غیر متوقع اضافے نے مالیاتی منڈیوں اور صنعتی شعبے میں غیر یقینی صورتحال کو جنم دیا ہے۔یہ فیصلہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، عالمی معاشی دباؤ اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں کیا گیا، تاہم ماہرین کے مطابق اس اقدام کے معاشی اثرات اور طویل المدتی اشارے ابھی واضح نہیں ہو سکے۔مرکزی بینک کا مؤقف ہے کہ آئندہ مہینوں میں مہنگائی کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، جس کے باعث سخت مالیاتی پالیسی ناگزیر تھی۔ تاہم ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان جیسے معاشی ڈھانچے میں شرح سود میں اس نوعیت کا بڑا اضافہ محض تکنیکی فیصلہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے پالیسی کے ممکنہ خطرات کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔اس پیش رفت کے بعد حکومتی مالیاتی پالیسی اور مرکزی بینک کے اقدامات کے درمیان ہم آہنگی پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔شرح سود میں اضافے کے فوراً بعد وزارت خزانہ نے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور اجارہ سکوک کی نیلامی میں تمام بولیاں مسترد کر دیں، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ حکومت بلند شرح سود پر قرض لینے کے حق میں نہیں ہے۔