پنجگور میں بم نصب کرتے ہوئے دو دہشت گرد اپنے ہی بارود کا شکار

پنجگور میں بم نصب کرتے ہوئے دو دہشت گرد اپنے ہی بارود کا شکار

Jul 2, 2026|ویب ڈیسک

گوارگو کے گاؤں مورتن میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی سنگین سازش مٹی میں مل گئی

​پنجگور (02 جولائی 2026): بلوچستان کے ضلع پنجگور میں معصوم شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی ایک بڑی کوشش خود ہی ناکام ہو گئی۔ گوارگو کے نواحی گاؤں مورتن میں دہشت گردی کا نیٹ ورک چلانے والے دو عناصر اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کا اپنا ہی بچھایا ہوا بارودی مواد دیسی ساختہ بم (IED) کی تنصیب کے دوران اچانک پھٹ گیا۔

​ذرائع کے مطابق یہ دہشت گرد نہتے بلوچ عوام اور گزرگاہوں کو نشانہ بنانے کے لیے بم نصب کر رہے تھے کہ سیکیورٹی خامی یا تکنیکی خرابی کے باعث مواد وقت سے پہلے دھماکے سے اڑ گیا، جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

معصوم شہریوں کے خلاف بچھایا گیا جال خود دہشت گردوں کا انجام بن گیا

​علاقائی مبصرین اور سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ عناصر مورتن کے مقامی رہائشیوں اور معصوم بلوچ عوام کے لیے موت کا جال بچھانے آئے تھے، تاہم قدرت کے نظام کے تحت وہ خود ہی اپنے بچھائے ہوئے جال کا شکار ہو گئے۔ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ تخریب کار عناصر خطے کا امن تباہ کرنے کے لیے کس حد تک گر سکتے ہیں۔

​سیکیورٹی فورسز نے دھماکے کے فوری بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ اردگرد کے راستوں کی حفاظت کو مکمل طور پر یقینی بنایا جا سکے۔

واقعے کے اہم ترین نکات

​مقامِ حادثہ: یہ واقعہ پنجگور کے دور افتادہ علاقے گوارگو کے گاؤں مورتن میں پیش آیا۔

​عوامی تحفظ: دھماکے کے نتیجے میں کسی بھی مقامی شہری یا راہگیر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

​سیکیورٹی ہائی الرٹ: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مورتن اور سائیڈ ایریاز میں تلاشی کا عمل تیز کر دیا ہے تاکہ کسی بھی دوسرے ممکنہ خطرے کا سدِباب کیا جا سکے۔