اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت اور آئندہ برس کے لیے نئے منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اہم ہدایات اور وژن
وزیرِ اعظم نے نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کے لیے درج ذیل ہدایات جاری کیں:
آئی ٹی تعلیم: ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہدایت کی کہ وہ جامعات میں آئی ٹی کی تعلیم کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کریں۔
تکنیکی و فنی تربیت: یوتھ پروگرام کی توجہ ایسی تکنیکی تربیت پر مرکوز ہو جس سے ملک اور بیرونِ ملک روزگار کے دروازے کھلیں۔
قرضہ جات کا انضمام: کاروبار شروع کرنے کے لیے تمام آسان قرضہ اسکیموں کو ایک ہی چھتری تلے لانے کا حکم۔
الیکٹرک بائیکس: کم آمدن اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کو الیکٹرک بائیکس کی فراہمی کے لیے وزارتِ صنعت کے ساتھ اشتراک عمل۔
کارکردگی کا جائزہ (بریفنگ)
اجلاس کو بتایا گیا کہ یوتھ پروگرام کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچ رہے ہیں:
ڈیجیٹل یوتھ ہب: 8 لاکھ سے زائد نوجوان اور 2 ہزار ادارے رجسٹرڈ، روزانہ 4800 سے زائد درخواستیں موصول۔
آسان قرضہ جات: "وزیرِ اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگری لونز" کے تحت 2 لاکھ 87 ہزار نوجوانوں کو 122.5 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے، جس سے 9 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ ہر قرض سے اوسطاً 3 سے زائد ملازمتیں تخلیق ہو رہی ہیں۔
پالیسی سازی: ملک کی پہلی "یوتھ اینڈ ایڈالیسینٹ پالیسی" اور "یوتھ روزگار پالیسی" کی تیاری۔
اسپورٹس اینڈ ٹیلنٹ ہنٹ: 4 لاکھ نوجوانوں کی شمولیت، جن میں سے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو پاکستان سپر لیگ جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر مواقع ملے۔