بلوچستان خبر

پاکستان کے انشورنس سیکٹر میں انقلابی تبدیلیاں؛ ایشیائی ترقیاتی بینک نے 700 ملین ڈالر کے بڑے قرض کی منظوری دیدی

پاکستان کے انشورنس سیکٹر میں انقلابی تبدیلیاں؛ ایشیائی ترقیاتی بینک نے 700 ملین ڈالر کے بڑے قرض کی منظوری دیدی

منیلا / اسلام آباد: پاکستان کی معاشی اور مالیاتی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے پاکستان کے کمرشل انشورنس سیکٹر (بیمہ کاری کے شعبے) کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 700 ملین ڈالر (مساوی اربوں روپے) کے تاریخی قرضے کی منظوری دے دی ہے۔

اس پروگرام کا بنیادی مقصد ملک میں مالیاتی تحفظ کے دائرے کو وسیع کرنا، بیمہ کاری کی منڈی میں اصلاحات لانا، اور ماحولیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے باعث ہونے والے معاشی نقصانات کے خلاف ملک کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ منصوبہ اے ڈی بی کی نئی "کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی 2026-2030" کے مقاصد کے عین مطابق ہے۔

انشورنس سیکٹر کی بحالی: منصوبے کے بنیادی خدوخال اور ترجیحات

پاکستان میں انشورنس کا شعبہ ملکی جی ڈی پی کے تناسب سے ہمیشہ پسماندگی کا شکار رہا ہے۔ اب سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی نگرانی میں انشورنس مارکیٹ کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور خودکار بنایا جائے گا۔

. کلائمیٹ رسک اور آفات سے بچاؤ کے لیے انشورنس:

اس 700 ملین ڈالر کے فنڈ کا ایک بڑا حصہ ایسے سیکیورٹی ماڈلز تیار کرنے پر خرچ ہوگا جو سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کی صورت میں غریب ترین طبقات اور عوامی انفراسٹرکچر کو مالی تحفظ فراہم کریں۔ اس اقدام سے حکومت پر ہنگامی فنڈز جاری کرنے کا معاشی بوجھ کم ہوگا۔

. ڈیجیٹلائزیشن اور مارکیٹ میرٹ:

اصلاحات کے تحت انشورنس کمپنیوں کے لیے ضابطہ اخلاق کو سخت کیا جائے گا تاکہ صارفین کا اعتماد بحال ہو سکے۔ مائیکرو انشورنس (چھوٹے پیمانے پر بیمہ کاری) کو فروغ دینے کے لیے ڈیجیٹل ایپس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

عام شہریوں اور خواتین کی مالی شمولیت:

منصوبے کے تحت خاص طور پر چھوٹے کاشتکاروں اور کاروبار کرنے والی خواتین کے لیے سستے انشورنس پیکجز متعارف کرائے جائیں گے، تاکہ کسی بھی حادثے یا معاشی نقصان کی صورت میں ان کا روزگار محفوظ رہ سکے۔

نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ اور پائیدار معاشی مستقبل

ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق، ان اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان کے مالیاتی اداروں کی کارکردگی عالمی معیار کے مطابق ہو جائے گی، جس سے غیر ملکی اور نجی شعبے کے بڑے سرمایہ کار ملکی انشورنس مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے راغب ہوں گے۔ یہ اقدام پاکستان کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے کی جانب ایک اہم ترین تزویراتی سنگ میل ثابت ہوگا۔