ایران امریکہ امن معاہدہ: پاکستان کی سفارتی کامیابی پر بھارت اور اسرائیل کی بے چینی واضح، گٹھ جوڑ بے نقاب

اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی اور تاریخی 'اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت' کے لیے پاکستان کی کامیاب ثالثی پر بھارتی اور اسرائیلی قیادت کی شدید بے چینی منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ عالمی امور کے مبصرین کے مطابق، دنیا کو ایک تباہ کن جنگ کے شعلوں سے بچانے کی پاکستانی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے روایتی حریفوں کا گٹھ جوڑ ایک بار پھر متحرک ہو چکا ہے۔


بھارتی میڈیا پر اسرائیلی سفیر کی ہرزہ سرائی

بھارت اور اسرائیل کے ان مذموم عزائم کی تصدیق اس وقت ہوئی جب بھارت میں تعینات اسرائیلی سفیر نے ایک بھارتی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے سفارتی کردار کے خلاف شدید ہرزہ سرائی کی اور سفارتی آداب کو پسِ پشت ڈال دیا۔


"پاکستان ہمارا دوست نہیں ہے، اور ہم اسے کسی مثبت مذاکراتی فریق کے طور پر نہیں دیکھتے۔ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک آگے بڑھیں، نہ کہ پاکستان جیسا کوئی ملک۔ ہم پاکستان کو ان ممالک میں شمار نہیں کرتے جنہیں ہم اس عمل کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔" — اسرائیلی سفیر

پاکستان کا مرکزی کردار اور عالمی تحفظات

واضح رہے کہ ایک طرف جہاں اسرائیل پاکستان کے مڈل ایسٹ امن عمل میں کردار پر معترض ہے، وہیں دوسری جانب خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی خطے میں، بالخصوص لبنان کے حوالے سے، اسرائیلی اقدامات کو جنگ بندی کی کوششوں کے لیے انتہائی خطرناک قرار دے چکے ہیں۔


بین الاقوامی امور کے معروف ماہر عمر کریم کے مطابق، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان خفیہ پیغام رسانی اور سفارتی روابط میں ایک مرکزی اور کلیدی پل کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک بالاخر برجنسٹاک میں مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہوئے۔


سول و عسکری قیادت کی حکمتِ عملی سے تباہ کن جنگ کا خاتمہ

سیاسی و دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ سطح کی سول اور عسکری قیادت نے مربوط اور شاندار سفارت کاری کے ذریعے دنیا کو ایک ایسے ممکنہ تصادم سے بچا لیا ہے جو عالمی معیشت اور امن کو تباہ کر سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اس بڑی سفارتی اور سٹریٹجک کامیابی کو ہضم کرنا بھارت اور اسرائیل کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے