پاکستان کا سلامتی کونسل میں اسرائیل سے غیر قانونی آبادکاری فوری بند کرنے کا پرزور مطالبہ
نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اسرائیل سے تمام غیر قانونی آباد کاری سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔
غزہ کی سنگین صورتحال اور انسانی بحران کا تذکرہ
پاکستانی مندوب نے غزہ میں جاری انسانی المیے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ مبذول کروائی۔ ان کا کہنا تھا کہ:
بنیادی ضروریات کا فقدان: غزہ کی 90 فیصد سے زائد آبادی اس وقت پینے کے صاف پانی، خوراک اور ادویات جیسی بنیادی انسانی ضروریات سے یکسر محروم ہے۔
امداد کی اپیل: عالمی برادری غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کے ساتھ ساتھ متاثرہ آبادی تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنائے۔
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں اور مالیاتی ناکہ بندی
عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں اسرائیل کی یکطرفہ جارحانہ پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کرے۔
"فلسطینیوں پر آبادکاروں کا تشدد، ان کی جبری بے دخلی اور مکانات کی مسماری کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔" — مستقل مندوب عاصم افتخار
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کی روکی گئی تمام مالی رقوم کو فوری طور پر بحال اور جاری کیا جائے تاکہ وہاں کا انتظامی و معاشی نظام مفلوج ہونے سے بچایا جا سکے۔
دو ریاستی حل: پائیدار امن کی واحد ضمانت
پاکستان نے اپنے دیرینہ اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے خطے کے منصفانہ حل پر زور دیا ہے۔ عاصم افتخار نے واضح کیا کہ 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک ایسی آزاد، خود مختار اور جغرافیائی طور پر جڑی ہوئی فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، وہی اس پورے خطے میں پائیدار امن کی واحد ضمانت ہے۔
کلیدی نکات (Key Takeaways)
پاکستانی موقف: سلامتی کونسل میں غیر قانونی آبادکاری کے خلاف مضبوط سفارتی آواز اٹھائی گئی۔
غزہ کی صورتحال: جنگ بندی اور 90 فیصد محروم آبادی کے لیے بلا رکاوٹ امداد کی ہنگامی ضرورت پر زور۔
معاشی دباؤ کی مذمت: فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے فنڈز کی فوری ریلیز کا مطالبہ۔