پاکستان میں پہلی بار 'کار ٹی سیل تھراپی' کا کامیاب تجربہ
مسلح افواج کے بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر نے 21 سالہ مریض کو نئی زندگی دے دی
راولپنڈی — پاکستان نے جدید طبی سائنس کی دنیا میں ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک میں پہلی بار کینسر کے علاج کے لیے انتہائی پیچیدہ اور جدید ’کار ٹی سیل تھراپی‘) کو کامیابی سے سرانجام دے دیا ہے۔ اس انقلابی کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان دنیا کے ان چند گنے چنے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے کینسر کا علاج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مسلح افواج کے بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر (AFBMT&C) میں آرمی میڈیکل کور کے ماہرین نے برسوں کی انتھک تحقیق اور محنت کے بعد اس علاج کو ممکن بنایا ہے۔ اس جدید ترین جینیاتی تھراپی کے بعد کینسر میں مبتلا 21 سالہ نوجوان مریض اب مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے۔
آرمی میڈیکل کور کی برسوں کی تحقیق اور اہم ترین سنگِ میل
یہ کامیابی پاکستان کے طبی شعبے کی اس صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے جہاں اب مشکل ترین اور لاعلاج سمجھی جانے والی بیماریوں کا علاج مقامی سطح پر ممکن ہو چکا ہے۔ اس طریقہ علاج کے اہم خدوخال درج ذیل ہیں:
علاج کی نوعیت: کار ٹی سیل تھراپی میں مریض کے اپنے مدافعتی خلیات (T-Cells) کو نکال کر لیبارٹری میں کینسر سے لڑنے کے لیے جینیاتی طور پر تیار کیا جاتا ہے اور دوبارہ جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔
مریض کا حوصلہ: پاکستان کی اس پہلی کار ٹی سیل تھراپی کے دوران 21 سالہ مریض اور ان کے اہل خانہ نے مثالی ہمت اور معالجین پر بھرپور اعتماد کا مظاہرہ کیا۔
بین الاقوامی معیار: اس کامیابی نے عالمی سطح پر پاکستان کی طبی صلاحیتوں اور تحقیق کا لوہا منوا دیا ہے۔
قومی طبی شعبے میں خود انحصاری اور اعتماد کی نئی بلندی
پاکستان کی اس کامیاب طبی پیش رفت نے قومی اعتماد کو ایک نئی بلندی دی ہے۔ آرمی میڈیکل کور اور مسلح افواج کا بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر اب ملک میں کینسر ریسرچ اور جینیاتی علاج کے سب سے بڑے مراکز کے طور پر ابھرے ہیں۔
مستقبل کے طبی اہداف اور فوائد
سستے علاج کی فراہمی: بیرونِ ملک کے مقابلے میں پاکستان ہی کے اندر کینسر کا یہ جدید ترین علاج اب انتہائی کم لاگت میں دستیاب ہو سکے گا۔
طبی خود انحصاری: بلڈ کینسر (Leukemia) اور دیگر پیچیدہ امراض کے لیے اب پاکستان کو غیر ملکی ہسپتالوں کا محتاج نہیں رہنا پڑے گا۔
تحقیق کا نیا باب: پاکستانی سائنسدانوں اور نوجوان ڈاکٹروں کے لیے بائیوٹیکنالوجی اور جینیاتی انجینئرنگ کے میدان میں تحقیق کے نئے راستے کھل گئے ہیں۔
مریض کی مکمل صحت یابی اور ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد، یہ تاریخی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا طبی نظام دنیا کے کسی بھی جدید ترین ملک کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔