مودی کو سفارتی محاذ پر ناکامی کا سامنا، پاکستان عالمی توجہ کا مرکز

مودی کو سفارتی محاذ پر ناکامی کا سامنا، پاکستان عالمی توجہ کا مرکز

Jul 4, 2026|ویب ڈیسک

​اسلام آباد — خطے میں کامیاب ثالثی اور متوازن خارجہ پالیسی کی بدولت پاکستان عالمی سفارتکاری کے اہم ترین مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، نریندر مودی کی ناقص حکمتِ عملی اور ہٹ دھرمی پر مبنی فیصلوں نے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر غیر مؤثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نئی دہلی اپنے روایتی شراکت داروں کا اعتماد کھو چکا ہے۔

​معروف بھارتی جریدے دی کاروان نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت اپنے علاقائی حریف پاکستان کو دنیا بھر میں تنہا کرنے کی تمام تر سازشوں اور کوششوں میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔

​H2: امن مذاکرات میں کامیابی؛ ایران اور امریکہ کی جانب سے مہرِ تصدیق

​خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق، عالمی سطح پر دو متضاد طاقتوں کی جانب سے بیک وقت پاکستان کے کردار کی تعریف اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا واضح مظہر ہے:

​ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان: خطے میں جنگ بندی کے بعد ایرانی صدر نے اپنے پہلے بین الاقوامی دورے کے لیے پاکستان کا انتخاب کیا، جہاں انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کر کے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔

​امریکی نائب صدر کا بیان: دوسری جانب، امریکہ نے بھی امن مذاکرات میں کلیدی سہولت کاری فراہم کرنے پر پاکستان کے سفارتی کردار کی کھل کر تعریف کی ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح الفاظ میں کہا کہ "مجھے پاکستان پسند ہے"۔

ہندوتوا اور صیہونیت کا گٹھ جوڑ؛ دوست ممالک کی ناراضگی

​بھارتی جریدے دی کاروان کی رپورٹ کے مطابق، مودی سرکار کی موجودہ ناکام خارجہ پالیسی کی ایک بڑی وجہ ہندوتوا اور صیہونیت کے درمیان بڑھتی ہوئی نظریاتی قربت ہے۔

​اہم تجزیہ: اس نظریاتی گٹھ جوڑ کے باعث مودی حکومت نے خطے میں اپنے دیرینہ اور مخلص دوست ممالک کو ناراض کر دیا ہے، جس سے بھارت کی تاریخی سفارتی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

​ایک ایسے وقت میں جب بھارت اندرونی اور بیرونی محاذوں پر سفارتی دیوالیہ پن کا شکار ہے، اسلام آباد کا عالمی امن کے لیے ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر ابھرنا پاکستانی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔