حکومتِ پاکستان نے خصوصی کمیٹی کی سفارشات اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے فیصلے کے بعد گوادر نارتھ فری زون سے گدھے کے گوشت کی برآمد کی منظوری دے دی ہے، تاہم یہ برآمدات متعلقہ ممالک کے درآمدی قوانین کے تابع ہوں گی۔
جائزہ اجلاس کے دوران حکام نے بتایا کہ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (GACC) 16 جنوری 2026 سے قبل تیار کیے گئے گدھے کے گوشت کی درآمد کی اجازت نہیں دیتی۔ اجلاس میں بیشتر شرکاء نے اس بات سے اتفاق کیا کہ پاکستان کی برآمدات پہلے ہی درآمد کنندہ ممالک کی پالیسیوں کے مطابق ہوتی ہیں، اس لیے اس تاریخ سے قبل تیار شدہ مصنوعات کے لیے الگ سے ECC منظوری کی ضرورت نہیں۔
تاہم شرکاء نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگر چین کے علاوہ دیگر ممالک کو گدھے کے گوشت کی برآمد پر کوئی پابندیاں موجود ہیں، خصوصاً ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (EPZs) سے متعلق، تو سمری میں متعلقہ قوانین میں مجوزہ ترامیم بھی شامل ہونی چاہئیں تھیں۔
گوادر ڈونکی سلاٹر ہاؤس سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر تفصیلی غور کے بعد یہ منظوری دی گئی کہ گوادر نارتھ فری زون سے برآمدات صرف ان ممالک کی درآمدی پالیسیوں کے مطابق کی جائیں جہاں یہ مصنوعات بھیجی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے بھی بعض غیر رسمی پیش رفت کے بعد پہلے ہی ECC کے فیصلے کی توثیق کر دی تھی۔