کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی بجٹ کے حوالے سے قائم پارلیمانی کمیٹی کا ایک انتہائی اہم اور مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کا مقصد آئندہ مالی سال کے لیے ایک متوازن اور عوام دوست بجٹ کی تیاری کو حتمی شکل دینا ہے۔
اجلاس میں صوبے کی بڑی سیاسی قوتوں بشمول پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی (ANP) کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی اور صوبے کی پائیدار ترقی کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔
سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے متوازن بجٹ کی تیاری
اجلاس کے دوران تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے عوامی فلاح و بہبود اور صوبے کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی بہتری کے لیے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ نے واضع کیا کہ حکومت اجتماعی مشاورت کے عمل پر یقین رکھتی ہے تاکہ صوبے کے تمام اضلاع میں یکساں ترقیاتی عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
"محدود وسائل کے باوجود ہماری حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ بجٹ سازی کے اس پورے عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کی مثبت اور تعمیری تجاویز کو شامل کیا جا رہا ہے۔"
— میر سرفراز بگٹی، وزیراعلیٰ بلوچستان
تعلیم، صحت اور پسماندہ علاقوں کی ترقی اولین ترجیح
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اجلاس کے شرکاء کو یقین دلایا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں روایتی سیاست سے ہٹ کر عوامی ضرورت کے منصوبوں کو شامل کیا جائے گا۔ حکومت کی بنیادی ترجیحات درج ذیل ہوں گی:
بنیادی سہولیات: تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے بجٹ میں خطیر رقم مختص کی جائے گی۔
پسماندہ اضلاع پر توجہ: دور دراز اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کو اولین ترجیح دی جائے گی تاکہ احساسِ محرومی کا خاتمہ ہو سکے۔
شفافیت اور معیار: ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں شفافیت اور کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے اختتام پر کہا کہ صوبے کی خوشحالی صرف اسی صورت ممکن ہے جب ترقیاتی عمل میں شفافیت کو برقرار رکھا جائے اور فنڈز کا درست استعمال براہِ راست عوام تک پہنچے۔