طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت کی نئی لہر، صوبہ بدخشاں میں حالات شدید کشیدہ

طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت کی نئی لہر، صوبہ بدخشاں میں حالات شدید کشیدہ

Jul 20, 2026|ویب ڈیسک

ضلع یفتل کے ہیڈ کوارٹرز پر مسلح گروہ کا قبضہ، طالبان اہلکاروں سے بھاری مقدار میں اسلحہ چھین لیا گیا

کابل: افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان مخالف مسلح گروپ کے سنسنی خیز حملے نے طالبان رجیم کے امن و امان کے دعووں کا پول کھول دیا ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق طالبان مخالف مسلح فورسز نے ضلع یفتل کے مرکزی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کر کے کئی گھنٹوں تک علاقے کا کنٹرول سنبھالے رکھا اور وہاں اپنا پرچم لہرایا۔

حملے کی تفصیلات اور ہیڈ کوارٹرز کا محاصرہ

طالبان مخالف فورسز نے حملے کے دوران طالبان اہلکاروں کو غیر مسلح کر دیا اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان ساتھ لے جانے میں کامیاب رہیں۔

علاقے پر عارضی کنٹرول: مسلح حملے کے بعد مخالف گروپ نے یفتل کے مرکز پر کئی گھنٹے تک اپنا تسلط قائم رکھا۔

پرچم کشائی: ہیڈ کوارٹرز کی عمارت میں داخل ہو کر مخالف فورسز نے اپنا پرچم بھی لہرایا۔

اسلحے کی منتقلی: حملہ آور ضلعی ہیڈ کوارٹرز سے فوجی سازوسامان اور گولہ بارود اپنے ساتھ لے گئے۔

افغان طالبان کی بڑھتی ہوئی مشکلات اور اندرونی اختلافات

افغانستان میں اس وقت دو اہم عسکری تحاریک—'فریڈم فرنٹ' اور 'نیشنل ریزسٹنس فرنٹ'—بدخشاں سمیت مختلف صوبوں میں فعال ہیں۔

سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں مزاحمت کی یہ نئی لہر طالبان کے جبر کے خلاف عوام کی بیزاری کو ظاہر کرتی ہے۔ علاوہ ازیں، یہ تنازع طالبان رجیم کے اندر بڑھتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کی نشاندہی بھی کرتا ہے جو آنے والے دنوں میں شدت اختیار کر سکتے ہیں